اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک میں انشورنس پالیسی ہولڈرز کی شکایات کے ازالے کا نظام بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات تجویز کی ہیں، جن میں انشورنس ٹربیونلز اور سمال ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کی تعداد بڑھانا، ان کا جغرافیائی دائرہ وسیع کرنا اور شکایات کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل نظام قائم کرنا شامل ہے۔ سفارشات ادارے کی رپورٹ ’Strengthening Insurance Grievance Redressal in Pakistan: Current Status and Strategic Way Forward‘ میں دی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں انشورنس شکایات سننے والے مختلف فورمز کو مجموعی طور پر 37,029 شکایات موصول ہوئیں۔ ایس ای سی پی نے وزارت قانون و انصاف کو سفارش کی ہے کہ آبادی اور جغرافیائی ضرورت کے مطابق انشورنس ٹربیونلز کی تعداد بڑھائی جائے، ایسے سیشنز کورٹس کی فہرست عام کی جائے جو انشورنس ٹربیونل کے طور پر نامزد ہیں، اور ٹربیونلز کے ارکان کی بروقت تقرری یقینی بنائی جائے۔

رپورٹ میں سمال ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے دائرہ اختیار اور جغرافیائی رسائی میں توسیع، ان کی مالی حدود کا وقتاً فوقتاً جائزہ اور آن لائن شکایت و دستاویز جمع کرانے کی سہولت کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ایس ای سی پی، وفاقی انشورنس محتسب، وفاقی محتسب، انشورنس ٹربیونلز، SDRCs اور انشورنس کمپنیوں کے درمیان معلومات اور شکایات کے اعداد کا باقاعدہ تبادلہ کرنے کے لیے مشترکہ طریقہ کار بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

ایس ای سی پی نے یہ بھی کہا ہے کہ شکایات کی تعداد، حل ہونے کی شرح، فیصلے میں لگنے والا وقت اور سامنے آنے والے نئے رجحانات کو انشورنس انڈسٹری اسٹیٹسٹکس رپورٹ کا حصہ بنایا جائے تاکہ نگرانی اعداد و شمار کی بنیاد پر ہو سکے۔ سرکاری شعبے کی انشورنس کمپنیوں سے متعلق شکایات میں مختلف فورمز کے دائرہ اختیار کے ممکنہ تداخل کو کم کرنے کے لیے قانونی اور انتظامی اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں شکایات کے حل کی متوقع مدت عام کرنے، پالیسی ہولڈرز کو دستیاب فورمز اور طریقہ کار واضح طور پر بتانے اور عوامی آگاہی مہم چلانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایس ای سی پی چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کے مطابق بہتر ادارہ جاتی رابطے اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے شکایات کے حل کا وقت کم کرنے، جوابدہی بڑھانے اور پالیسی ہولڈرز کو مؤثر فورم تک رسائی دینے کا ہدف ہے۔ یہ سفارشات فوری طور پر نئی قانونی پابندیاں نافذ نہیں کرتیں؛ ان میں سے متعدد اقدامات کے لیے متعلقہ وزارتوں، عدالتی و شکایتی فورمز اور انشورنس صنعت کی عملی کارروائی درکار ہوگی۔