سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے لسٹڈ کمپنیوں اور مارکیٹ انٹرمیڈیریز کو ESG Sustain Portal پر رجسٹریشن مکمل کرنے اور پائیداری سے متعلق قابلِ اطلاق افشا تقاضوں کے مطابق رپورٹنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ میٹس گلوبل کی 22 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ ہدایت ان لازمی اور رضاکارانہ فریم ورکس کا احاطہ کرتی ہے جو ایس ای سی پی وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمپنیوں کو پورٹل پر آن بورڈنگ کے لیے اپنے نامزد فوکل پرسن کی تفصیلات اور پائیداری سے متعلق مخصوص ای میل ایڈریس فراہم کرنا ہوگا تاکہ اکاؤنٹ بنایا جا سکے۔ اس انتظام کا مقصد ماحولیاتی، سماجی اور گورننس یعنی ESG معلومات کو ایک منظم ڈیجیٹل نظام کے ذریعے جمع کرنا اور متعلقہ اداروں کی رپورٹنگ کو معیاری بنانا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایک سرکاری نوٹس میں بھی درج ہے کہ ایس ای سی پی نے 11 دسمبر 2025 کو نظرثانی شدہ ESG Disclosure Guidelines جاری کی تھیں اور ESG Sustain Portal کو لسٹڈ کمپنیوں کے لیے ESG افشا کا باضابطہ پلیٹ فارم مقرر کیا تھا۔ اس نوٹس میں کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ بلا تاخیر پورٹل پر آن بورڈ ہوں اور نظرثانی شدہ رہنما اصولوں کے مطابق مکمل اور بروقت ESG معلومات جمع کرائیں۔

یہ رہنما اصول ایس ای سی پی کے وسیع تر ESG روڈ میپ، پاکستان گرین ٹیکسونومی اور ملک کے Nationally Determined Contributions کے ساتھ ہم آہنگی کے تناظر میں تیار کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کارپوریٹ رپورٹنگ میں ماحولیاتی اثرات، سماجی عوامل اور ادارہ جاتی گورننس سے متعلق معلومات کو سرمایہ کاروں اور ریگولیٹر کے لیے زیادہ منظم انداز میں دستیاب کرنا مقصود ہے۔

نئی ہدایت کسی کمپنی کی ESG کارکردگی کے حق یا مخالفت میں فیصلہ نہیں بلکہ رپورٹنگ اور انکشاف کے طریقہ کار سے متعلق ریگولیٹری قدم ہے۔ مختلف کمپنیوں پر لاگو ہونے والے لازمی یا رضاکارانہ تقاضے ان کے شعبے، ریگولیٹری حیثیت اور ایس ای سی پی کے متعلقہ فریم ورک کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ کمپنیوں کو اسی لیے قابلِ اطلاق رہنما اصول دیکھ کر اپنی رپورٹنگ مکمل کرنا ہوگی۔

مرکزی پورٹل پر رجسٹریشن سے ایس ای سی پی اور سرمایہ کاروں کے لیے پائیداری سے متعلق معلومات کے معیار، دستیابی اور تقابل میں بہتری کی گنجائش پیدا ہوتی ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار کمپنیوں کی بروقت تعمیل، ڈیٹا کے معیار اور ریگولیٹری نگرانی پر ہوگا۔