کراچی: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ پاکستان کی مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کو مضبوط اور سرمایہ منڈی تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے متعدد اصلاحات پر کام جاری ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس ریٹ کی لسٹنگ تقریب سے خطاب میں انہوں نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس، قانونی تعمیل کی سادگی، ڈیجیٹل ریگولیشن اور سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے کو اہم ترجیحات قرار دیا۔

ایس ای سی پی چیئرمین کے مطابق پاکستان کا ریئل اسٹیٹ شعبہ 7 ٹریلین روپے سے زیادہ حجم رکھتا ہے اور ریٹ کے ذریعے اس شعبے میں دستاویزات، گورننس اور عام سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی اور انشورنس قوانین میں مجوزہ ترامیم پارلیمان کے زیر غور ہیں، جبکہ نان بینکنگ مالیاتی شعبے کے قواعد میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ ان اصلاحات کا اعلان پالیسی اور ریگولیٹری عمل کا حصہ ہے؛ حتمی قانونی شکل متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوگی۔

دستیاب اعدادوشمار کے مطابق 2026 میں اب تک 13 ابتدائی عوامی پیشکشوں کے ذریعے 26 ارب روپے کا سرمایہ اکٹھا کیا گیا ہے۔ مینوفیکچرنگ، زراعت، ریئل اسٹیٹ، توانائی اور ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں نے اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کیا۔ چیئرمین نے کہا کہ رواں سال سرمایہ کاروں کی تعداد میں 36 فیصد اضافہ ہوا اور جنوری سے 168 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہونے کے بعد مجموعی تعداد تقریباً 630 ہزار تک پہنچ گئی۔

مقامی بانڈ مارکیٹ کی گہرائی بڑھانے کا مقصد حکومت اور نجی شعبے کے لیے مقامی کرنسی میں طویل مدتی سرمایہ کے زیادہ متنوع ذرائع پیدا کرنا ہے۔ مؤثر بانڈ مارکیٹ کے لیے صرف نئے اجرا کافی نہیں ہوتے بلکہ فعال ثانوی تجارت، مختلف اقسام کے سرمایہ کار، شفاف قیمت سازی اور قابل اعتماد ریگولیٹری نظام بھی ضروری ہوتے ہیں۔ ایس ای سی پی کے تازہ بیانات سے اصلاحاتی سمت واضح ہوتی ہے، جبکہ ان اقدامات کے عملی اثرات آئندہ اجرا، تجارتی حجم، سرمایہ کاروں کی شرکت اور منظور ہونے والی قانونی تبدیلیوں سے سامنے آئیں گے۔