اسلام آباد: سینیٹ کی فعال کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے پر فوری ایف آئی آر درج کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس واقعے میں 14 نومولود بچوں کی جان گئی تھی۔ ڈان کے مطابق کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی صدارت میں ہوا، جہاں اراکین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ وزیراعظم کی جانب سے کارروائی کی ہدایات کے باوجود اب تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
پمز حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں ایف آئی آر تاحال درج نہیں ہوئی۔ کمیٹی کے ارکان نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم نے آٹھ ملازمین کی خدمات ختم کرنے اور مبینہ طور پر ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کی ہدایت کی تھی تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوا۔ کمیٹی کی سربراہ نے غفلت اور جانی نقصان سے متعلق فوری مقدمہ درج کرنے، ذمہ داری کا تعین ہونے پر قانونی کارروائی آگے بڑھانے اور معطل اہلکاروں سے متعلق مزید انتظامی اقدامات کی سفارش کی۔
یہ ہدایات کسی فرد کے جرم کا عدالتی تعین نہیں ہیں۔ کمیٹی نے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے قانونی عمل شروع کرنے کا کہا ہے، جبکہ حتمی ذمہ داری تفتیش اور عدالت میں شواہد کی بنیاد پر طے ہوگی۔ معاملے کی نوعیت اس لیے بھی سنگین ہے کہ متاثرین نومولود بچے تھے اور واقعہ ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے حساس شعبے میں پیش آیا۔
اجلاس میں انسانی حقوق سے متعلق دیگر مقدمات اور معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا، تاہم پمز نرسری آتشزدگی پر کمیٹی نے فوری قانونی کارروائی پر زور دیا۔ اس پیش رفت کے بعد متعلقہ پولیس اور انتظامی حکام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ واقعے کی تفتیش، ممکنہ غفلت، حفاظتی انتظامات اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے پہلوؤں کو قانون کے مطابق جانچیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے بھی مقدمے کا اندراج اور شفاف تفتیش اس سانحے کے اسباب اور ذمہ داری کے تعین کی جانب بنیادی قدم ہوگا۔




