سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں پر مقررہ حفاظتی، ماحولیاتی اور معیار سے متعلق ضوابط کے نفاذ سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کے متعلقہ اجلاس کا ریکارڈ چار ہفتوں میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ درخواست ایک مقامی آٹو موبائل مینوفیکچرر نے دائر کی ہے، جس میں وفاقی وزارت صنعت و پیداوار، وزارت تجارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ اس معاملے پر اجلاس کر چکی ہے۔ بینچ نے اس بیان کے بعد اجلاس کی تفصیلات اور متعلقہ ریکارڈ مقررہ مدت میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے ابھی درخواست کے بنیادی قانونی دعووں پر حتمی فیصلہ نہیں دیا اور نہ ہی یہ طے کیا ہے کہ موجودہ معائنہ نظام قانون یا مقررہ معیار سے متصادم ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف ہے کہ استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کو قابل اطلاق حفاظتی، ماحولیاتی اور معیار کے ضوابط، جن میں اقوام متحدہ کے 62 ریگولیشنز شامل ہیں، کی مکمل جانچ سے گزرنا چاہیے۔ ان کے مطابق انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے 2025 میں دو مرحلوں پر مشتمل معائنہ نظام متعارف کرایا تھا جس میں روانگی سے پہلے معائنہ اور پاکستان پہنچنے کے بعد آزاد تھرڈ پارٹی انسپیکشن شامل ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ رجسٹرڈ معائنہ ایجنسیاں گاڑیوں کی حقیقی حالت کے مطابق تمام 62 ضوابط کی مکمل تصدیق کے بجائے عمومی تقاضوں کی جانچ کر رہی ہیں۔ درخواست گزار نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی دستاویزات لازماً یہ ثابت نہیں کرتیں کہ گاڑی درآمد کے وقت تمام مقررہ حفاظتی معیار پر پوری اترتی تھی۔ ایف بی آر کی جانب سے مارچ 2026 میں پری اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن کے تقاضوں میں ابہام کی نشاندہی کا حوالہ بھی دیا گیا۔
درخواست گزار مقامی مینوفیکچررز اور درآمدی استعمال شدہ گاڑیوں کے لیے معیار کے نفاذ میں مساوی اور مؤثر نظام کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس نے کسٹمز کلیئرنس سے پہلے روانگی اور پاکستان پہنچنے کے بعد لازمی معائنوں کی استدعا کی ہے۔
عدالت کا موجودہ حکم بنیادی طور پر معلومات اور سرکاری ریکارڈ طلب کرنے سے متعلق ہے۔ آئندہ سماعتوں میں کابینہ کے فیصلوں، متعلقہ نوٹیفکیشنز، ادارہ جاتی اختیارات اور معائنہ نظام کی قانونی حیثیت کا جائزہ سامنے آ سکتا ہے۔ اس مرحلے پر کسی فریق کے مؤقف کو عدالتی طور پر درست یا غلط قرار نہیں دیا گیا۔
