نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس دا کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، تجارت، جی ایس پی پلس اور پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر عمل درآمد سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

وزیراعظم آفس سے منسوب بیان کے مطابق شہباز شریف نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس فریم ورک کو پاکستان کی برآمدات، روزگار اور معاشی سرگرمی کے لیے اہم قرار دیا اور اس انتظام کے تحت یورپی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان 2014 سے جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جس کے تحت مخصوص شرائط پوری کرنے والے ممالک کو یورپی منڈی میں بڑی تعداد میں مصنوعات پر ترجیحی ٹیرف رسائی ملتی ہے۔ یورپی یونین کی موجودہ معلومات کے مطابق پاکستان جی ایس پی پلس کے مستفید ممالک میں شامل ہے اور موجودہ نظام 2027 تک نافذ ہے، جبکہ نئے فریم ورک کے تحت مستقبل کی اہلیت الگ ضابطہ جاتی عمل سے مشروط ہوگی۔

ملاقات میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے رابطوں میں تسلسل اور پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے مختلف شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی گئی۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ وسیع البنیاد شراکت داری کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے اور تجارت، سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں رابطہ بڑھانے کا خواہاں ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن کے بیان کے مطابق یورپی یونین پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کو تعلقات کے وسیع دائرہ کار کی عکاسی قرار دیتے ہوئے جمہوریت، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں سمیت ان شعبوں کا بھی ذکر کیا جنہیں یورپی یونین جی ایس پی پلس کے تناظر میں باقاعدگی سے مانیٹر کرتا ہے۔ دونوں فریقوں نے علاقائی اور عالمی صورتِ حال، مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں غیر قانونی ہجرت اور سکیورٹی تعاون جیسے موضوعات بھی زیرِ بحث آئے۔ وزیراعظم نے یورپی کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور کو پاکستان کے دورے کی دعوت دہرائی۔ موجودہ ملاقات میں کسی نئے تجارتی معاہدے یا جی ایس پی پلس کی نئی مدت کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا؛ گفتگو کا محور موجودہ ترجیحی تجارتی انتظام، متعلقہ ذمہ داریوں اور طویل المدتی پاکستان-یورپی یونین شراکت داری کو آگے بڑھانا تھا۔