کراچی: وزیراعظم شہباز شریف نے نجی شعبے سے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو کے اگلے مرحلے میں برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری روزگار بڑھانے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کی لسٹنگ کے لیے منعقدہ گونگ تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک مختلف شعبوں کو تحفظ دینے کے باوجود برآمدات اور درآمدی متبادل کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

وزیراعظم کا مؤقف تھا کہ معاشی استحکام کے بعد ترقی کے لیے کاروباری شعبے کو مسابقت اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تقریب میں شریک کاروباری نمائندوں نے اس کے ساتھ حکومت کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ٹیکس اور ریگولیٹری ماحول سازگار ہونا چاہیے۔ یوں تقریب میں نمو کی ذمہ داری صرف ایک فریق تک محدود رکھنے کے بجائے نجی سرمایہ کاری اور حکومتی پالیسی کے باہمی تعلق پر گفتگو ہوئی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب میں کہا کہ حکومت تیز رفتار مگر غیر پائیدار نمو کے سابقہ چکر سے بچنا چاہتی ہے، کیونکہ زیادہ لیکویڈیٹی کے ذریعے شرح نمو تیزی سے بڑھانے سے دوبارہ ادائیگیوں کے توازن کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سرمایہ منڈی، ریٹ، سکوک، انفراسٹرکچر فنڈز اور دیگر اثاثہ جاتی ذرائع کے ذریعے سرمایہ کاری کے دائرے کو وسیع کرنے کی حکمت عملی کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق خوردہ سرمایہ کاروں کی تعداد میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے اور ریگولیٹر مزید سرمایہ کاروں کو منڈی میں لانے کا ہدف رکھتا ہے۔

تقریب میں تعمیرات اور ریئل اسٹیٹ کے رسمی مالیاتی ڈھانچے میں آنے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ مقررین کے مطابق ریٹ جیسے ذرائع جائیداد کے شعبے میں دستاویزات، گورننس اور سرمایہ کی روانی بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا خطاب پالیسی ترجیح کا بیان ہے؛ اس کے معاشی نتائج کا تعین آئندہ سرمایہ کاری، برآمدی کارکردگی، روزگار کے اعدادوشمار اور ریگولیٹری اقدامات سے ہوگا۔