اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کے مرحلے کے بعد اب پائیدار اقتصادی نمو، روزگار کے نئے مواقع، جدید ٹیکنالوجی، پیداوار میں اضافے اور برآمدات کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ انہوں نے یہ بات کراچی میں نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریئٹ اسکیم کی لسٹنگ کے سلسلے میں منعقدہ گونگ تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں وفاقی اور صوبائی اداروں، مالیاتی اداروں اور اقتصادی ٹیم کی مشترکہ کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اصلاحات اور میکرو اکنامک استحکام نے معیشت کو ایک نسبتاً بہتر بنیاد فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق اب اگلا مرحلہ ایسا ہونا چاہیے جس میں معاشی سرگرمی کا براہ راست تعلق پیداوار، برآمدی مسابقت اور ملازمتوں کے مواقع بڑھانے سے ہو۔

شہباز شریف نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں بین الاقوامی بینکاروں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ان کی ملاقاتوں میں پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی مالیاتی اداروں نے طویل عرصے سے زیر التوا ساختی اصلاحات پر پیش رفت کو مثبت قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے اس تناظر میں سرمایہ کاری کے لیے پالیسی ماحول بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے پاکستان کی بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس میں واپسی، زرمبادلہ کے ذخائر، ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ استحکام کو صرف اعداد و شمار تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایسی نمو میں بدلا جائے جس کے اثرات صنعت، تعمیرات، ٹیکنالوجی اور روزگار کے شعبوں میں نظر آئیں۔

وزیراعظم نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور تعمیراتی شعبے کے لیے دی گئی مراعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کو جدید مشینری، بہتر پیداواری صلاحیت اور عالمی مسابقت کی طرف بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے بعض صنعتوں کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سبسڈی اور حفاظتی ٹیرف کے باوجود مطلوبہ درآمدی متبادل اور مسابقتی نتائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں پالیسی کا ازسرنو جائزہ ضروری ہے۔

تقریب سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی خطاب کیا اور نجی شعبے کی سرگرمی، ہاؤسنگ فنانس، ٹیکس وصولیوں اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے لیے ضروری معاشی ماحول فراہم کرنے کی پالیسی جاری رکھے گی۔

وزیراعظم کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت معیشت کے استحکام کے بعد تیز اور برآمدات پر مبنی نمو کو اگلا پالیسی ہدف قرار دے رہی ہے۔ اس حکمت عملی کی عملی کامیابی کا انحصار سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، روزگار، برآمدات اور اصلاحات کے تسلسل پر ہوگا۔