اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے مختلف شعبوں میں تقریباً 40 ارب ڈالر مالیت کے ممکنہ سرمایہ کاری منصوبوں کی پائپ لائن تیار کی ہے۔ ایس آئی ایف سی کے سیکریٹری جمیل قریشی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کو بریفنگ میں بتایا کہ حکومت متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سے متعلق تاخیر کا شکار یا رکے ہوئے منصوبوں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے رابطہ کاری بڑھا رہی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجوزہ پائپ لائن میں صنعت و پیداوار، تیل و گیس، ریلوے، سڑکیں اور دیگر انفراسٹرکچر، بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویات، سیاحت، غذائی تحفظ اور زراعت جیسے شعبے شامل ہیں۔ یہ 40 ارب ڈالر کی رقم حتمی سرمایہ کاری یا موصول شدہ فنڈنگ نہیں بلکہ مختلف مراحل میں موجود ممکنہ منصوبوں اور مواقع کی مجموعی مالیت بتائی گئی ہے۔

بریفنگ کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ متحدہ عرب امارات اور دوسرے شراکت دار ممالک سے جڑے تعطل کا شکار منصوبوں کو فعال انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ ایس آئی ایف سی نے کمیٹی کو بتایا کہ ابتدا میں وفاقی اور صوبائی سطح پر جواب دہی اور ادارہ جاتی رابطے میں تاخیر کے باعث بعض سرمایہ کاری تجاویز آگے نہیں بڑھ سکیں، تاہم بعد میں بہتر رابطہ کاری سے منصوبوں کی فہرست وسیع ہوئی۔

قائمہ کمیٹی نے زور دیا کہ محض سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کافی نہیں اور انہیں عملی منصوبوں میں بدلنے کے لیے ریگولیٹری، مالی اور انتظامی رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہیں۔ کمیٹی نے وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔

اسی اجلاس میں برآمدات، ریلوے اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر بھی بات ہوئی۔ کمیٹی کے ارکان نے 2030 تک برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر تحفظات ظاہر کیے اور توانائی کی بلند قیمتوں، ٹیکسوں اور مالیاتی حالات کو چیلنج قرار دیا۔ علاوہ ازیں مین لائن-1 ریلوے منصوبے، کے فور پانی منصوبے، ایم-6 موٹروے اور لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور کی فنانسنگ اور پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔

ایس آئی ایف سی 2023 میں سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں کو تیز کرنے اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے مقصد سے قائم کی گئی تھی۔ موجودہ 40 ارب ڈالر کی پائپ لائن کی اصل معاشی اہمیت اس وقت واضح ہوگی جب ان ممکنہ منصوبوں میں سے کتنے باضابطہ سرمایہ کاری معاہدوں، مالیاتی بندوبست اور عملی تعمیر یا پیداوار کے مرحلے تک پہنچتے ہیں۔