کراچی: سندھ اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ 2022 سے 2025 کے دوران صوبے میں مقررہ کم از کم اجرت ادا نہ کرنے پر 2,031 فیکٹریوں اور دیگر اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی اور مجموعی طور پر 45.15 ملین روپے، یعنی تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے، کے جرمانے عائد کیے گئے۔ صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے وقفہ سوالات کے دوران تحریری اور زبانی سوالات کے جواب میں یہ اعداد و شمار پیش کیے۔
وزیر محنت کے مطابق سندھ میں موجودہ کم از کم ماہانہ اجرت غیر ہنر مند کارکن کے لیے 43,000 روپے، نیم ہنر مند کے لیے 44,484 روپے، ہنر مند کے لیے 53,350 روپے اور انتہائی ہنر مند کارکن کے لیے 55,626 روپے مقرر ہے۔ یہ شرحیں سندھ منیمم ویجز ایکٹ 2015 کے تحت نافذ کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر فوزیہ حمید کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے بتایا کہ مالی سال 2022-23 میں غیر ہنر مند کارکن کے لیے کم از کم اجرت 26,000 روپے، ہنر مند کے لیے 31,961 روپے اور انتہائی ہنر مند کے لیے 33,491 روپے مقرر تھی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت کارکنوں کی شکایات اور باقاعدہ معائنوں کے دوران سامنے آنے والی خلاف ورزیوں دونوں پر کارروائی کرتا ہے۔
وزیر کے مطابق صوبے میں لاکھوں چھوٹے بڑے ادارے اور ان میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور ہیں، اس لیے محکمہ ہر جگہ مسلسل نگرانی نہیں کر سکتا۔ تاہم سوشل میڈیا، مزدور تنظیموں یا دیگر ذرائع سے شکایت موصول ہونے پر کارروائی کی جاتی ہے۔ یہ بیان صوبائی نفاذ کے عملی دائرہ کار اور شکایت پر مبنی نگرانی کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
اسمبلی کو مزدور فلاحی ادائیگیوں کے اعداد و شمار بھی دیے گئے۔ 2024-25 میں 765 کارکنوں کے بچوں کو 111.58 ملین روپے کے وظائف دیے گئے، جبکہ اس سے پچھلے سال 17 کارکنوں کے لیے 19.52 ملین روپے بتائے گئے۔ گزشتہ سال 1,236 کارکنوں کی بیٹیوں کے لیے 204.8 ملین روپے کی شادی معاونت اور 513 متوفی کارکنوں کے خاندانوں کو 299 ملین روپے کے ڈیتھ گرانٹس ادا کیے گئے۔ سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن نے 2022-23 میں 7.902 ارب اور 2023-24 میں 9.545 ارب روپے کی کنٹری بیوشنز جمع کیں۔




