کراچی: سندھ حکومت نے سماعت سے محروم بچوں کے لیے خصوصی تعلیم کے نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھاتے ہوئے 37 اسپیشل ایجوکیشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن مراکز میں 49 ڈیجیٹل کلاس رومز کا افتتاح کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے منصوبے کا آغاز کیا، جسے محکمہ امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز نے ڈیف ریچ اور فیملی ایجوکیشنل سروسز فاؤنڈیشن کے تعاون سے نافذ کیا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون میں شائع اے پی پی رپورٹ کے مطابق ان 49 ڈیجیٹل کلاس رومز سے تقریباً 754 سماعت سے محروم طلبہ کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ منصوبے کے ساتھ 20 سیٹلائٹ اسکول بھی قائم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے تقریباً 476 ایسے بچوں تک خصوصی تعلیمی خدمات پہنچانے کا ہدف ہے جنہیں پہلے جغرافیائی فاصلے یا سہولیات کی کمی کے باعث محدود رسائی حاصل تھی۔

ڈیجیٹل کلاس رومز میں اسمارٹ بورڈز، ای لرننگ وسائل اور ٹیکنالوجی سے معاون تدریسی طریقے شامل کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان سہولیات کا مقصد دور دراز اور نسبتاً کم سہولت یافتہ علاقوں میں بھی معیاری خصوصی تعلیم کے مواقع بڑھانا ہے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ ٹیکنالوجی تعلیم کو تبدیل کر رہی ہے، تاہم تربیت یافتہ اساتذہ مؤثر تدریس کا بنیادی حصہ رہیں گے۔ اسی مقصد کے لیے سائن لینگویج ٹیچرز ٹریننگ پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس کا ہدف اساتذہ کی صلاحیت بڑھانا اور پاکستان سائن لینگویج کو جامع تعلیم کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر فروغ دینا ہے۔

سماعت سے محروم طلبہ کے لیے ڈیجیٹل مواد کی افادیت صرف آلات کی فراہمی پر منحصر نہیں ہوتی۔ نصاب کی اشاروں کی زبان میں دستیابی، اساتذہ کی تربیت، انٹرنیٹ و بجلی کی پائیدار فراہمی، آلات کی دیکھ بھال اور طلبہ کی پیش رفت کی نگرانی بھی منصوبے کے نتائج کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔

منصوبے کی اعلان کردہ تعداد کے مطابق براہ راست ڈیجیٹل کلاس رومز اور سیٹلائٹ اسکولوں کے ذریعے مجموعی طور پر ایک ہزار سے زیادہ بچوں تک خصوصی تعلیمی مواقع پہنچانے کی گنجائش بنتی ہے۔ تاہم ہر مرکز کی کارکردگی، حاضری، تعلیمی نتائج اور ٹیکنالوجی کے مستقل استعمال کے بارے میں طویل مدتی اعداد و شمار بعد میں دستیاب ہوں گے۔

تازہ افتتاح سندھ میں خصوصی تعلیم کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کا عملی قدم ہے۔ اگلا اہم مرحلہ ان کلاس رومز کو مستقل طور پر فعال رکھنا، تربیت یافتہ تدریسی عملہ مہیا کرنا اور یہ جانچنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی سے سماعت سے محروم بچوں کی سیکھنے کی سطح اور تعلیمی رسائی میں کس حد تک بہتری آتی ہے۔