کراچی: سندھ اسمبلی نے صوبے میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کرنے کی اپوزیشن کی قرارداد اکثریتی ووٹ سے مسترد کر دی ہے۔ ڈان کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رکن محمد عامر صدیقی نے قرارداد ایوان میں پیش کی اور سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے زیر انتظام اسپتالوں سمیت صوبے میں ایچ آئی وی سے متعلق صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
قرارداد کا بنیادی مطالبہ ایک ایسے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا قیام تھا جو وبا یا انفیکشن کے پھیلاؤ سے متعلق ذمہ داری، انتظامی کمزوریوں اور صحت کے نظام کے ردعمل کا جائزہ لے سکے۔ تاہم صوبائی حکومت سے تعلق رکھنے والے ارکان نے قرارداد کی حمایت نہیں کی اور اسے اکثریت سے مسترد کر دیا گیا۔ اس پارلیمانی فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اس مخصوص قرارداد کے تحت آزاد کمیشن قائم نہیں ہوا؛ یہ خود کسی طبی تحقیق کا نتیجہ یا ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجوہات پر حتمی فیصلہ نہیں ہے۔
ایوان میں بحث کے دوران سیاسی اختلافات بھی نمایاں رہے۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے وفاقی سطح کے بعض بیانات اور اٹھارہویں آئینی ترمیم سے متعلق تنقید کا جواب دیا اور مرکز سے سندھ کے ساتھ گیس اور بجلی کی فراہمی میں مبینہ امتیاز ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ نکات ایچ آئی وی قرارداد سے الگ سیاسی بحث کا حصہ تھے، اس لیے انہیں طبی حقائق یا وبائی تحقیق کے نتائج کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
سندھ میں ایچ آئی وی کا مسئلہ کئی برس سے صحت عامہ کے لیے حساس موضوع رہا ہے، خصوصاً رتوڈیرو اور دیگر متاثرہ علاقوں کے واقعات کے بعد تشخیص، محفوظ طبی طریقہ کار، خون کی اسکریننگ اور علاج تک رسائی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ موجودہ اسمبلی کارروائی میں اپوزیشن نے آزاد نگرانی کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ قرارداد مسترد ہونے کے بعد کسی نئے کمیشن کے قیام کے لیے الگ حکومتی یا قانون ساز اقدام درکار ہوگا۔
خبر میں ایچ آئی وی سے متعلق کسی نئے مریضوں کے مجموعی عدد، کسی مخصوص اسپتال کے خلاف ثابت شدہ غفلت یا کسی فرد کی ذمہ داری کا حتمی تعین سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ایسے دعووں کو قرارداد میں اٹھائی گئی تشویش اور سیاسی موقف تک محدود رکھنا ضروری ہے۔ تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ آزاد کمیشن بنانے کی پیش کردہ قرارداد سندھ اسمبلی میں منظور نہیں ہو سکی۔




