کراچی: سندھ اسمبلی نے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں وفاقی حکومت سے پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ ڈان کے مطابق قرارداد جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے پیش کی، جس پر ایوان نے ووٹنگ کے بعد اتفاق کیا۔

قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پٹرول کی بنیادی قیمت کے علاوہ پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن سمیت مختلف مدات صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہیں۔ قرارداد کے متن میں پٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر اور کلائمیٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر کا حوالہ دیا گیا، جبکہ دیگر مارجن بھی قیمت میں شامل ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ ایوان نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ لیوی اور دیگر متعلقہ ڈیوٹیز ختم کر کے عوام کو فوری ریلیف دیا جائے۔

صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے بحث کے دوران واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی وفاقی معاملہ ہے اور صوبائی حکومت خود اسے ختم نہیں کر سکتی۔ اس لیے سندھ اسمبلی کی قرارداد ایک سیاسی اور پارلیمانی مطالبہ ہے؛ اس کی منظوری سے وفاقی ٹیکس یا لیوی خودکار طور پر ختم نہیں ہوتی۔ کسی عملی تبدیلی کے لیے وفاقی سطح پر متعلقہ قانونی یا مالی فیصلہ درکار ہوگا۔

قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی ہے جب جماعت اسلامی ملک کے مختلف شہروں میں پٹرولیم قیمتوں کے خلاف احتجاج اور دھرنے کر رہی ہے۔ ایوان میں دیگر سیاسی معاملات پر شور شرابا بھی ہوا، تاہم پٹرولیم لیوی سے متعلق قرارداد پر متفقہ منظوری سامنے آئی۔ اسی اجلاس میں مسیحی خاندانی قوانین سے متعلق ایک بل بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا۔

پٹرولیم لیوی وفاقی محصولات کا اہم حصہ ہے اور اس میں کسی تبدیلی کے مالی اثرات قومی بجٹ اور محصولات پر پڑ سکتے ہیں۔ سندھ اسمبلی کی قرارداد نے صوبائی سطح پر بڑھتی ایندھن قیمتوں کے خلاف مشترکہ پارلیمانی مؤقف ریکارڈ کیا ہے، مگر اگلا فیصلہ وفاقی حکومت کے اختیار میں ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت قرارداد کی متفقہ منظوری اور وفاق سے لیوی ختم کرنے کے رسمی مطالبے تک محدود ہے۔