حیدرآباد: سندھ کے محکمہ صحت نے اینٹی ریبیز ویکسینیشن کے کیسز میں سامنے آنے والی مبینہ کوتاہیوں کے بعد چار ڈاکٹروں، ایک ڈسپنسر، ایک لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور ایک دائی کو معطل کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی ہدایت پر کی گئی، جبکہ سات ہسپتالوں اور طبی اداروں کے سربراہان سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران پانچ افراد، جن میں کم عمر بچے بھی شامل تھے، اینٹی ریبیز یونٹس پر رپورٹ ہونے کے باوجود انتقال کر گئے۔ متاثرین کا تعلق شاہدادپور، ٹنڈو الہیار، کوٹری، حیدرآباد اور ٹنڈو محمد خان سے بتایا گیا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق رواں سال اگست تک ریبیز سے متعلق اموات کی تعداد 38 تھی، تاہم موجودہ کارروائی خاص طور پر حالیہ کیسز میں سامنے آنے والے انتظامی اور طبی نقائص کے تناظر میں کی گئی ہے۔
معطل کیے گئے اہلکاروں کے خلاف کارروائی انتظامی نوعیت کی ہے اور اسے حتمی مجرمانہ یا پیشہ ورانہ ذمہ داری کا عدالتی تعین نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح وضاحت طلب کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ افسران سے ریکارڈ اور جواب مانگا گیا ہے؛ دستیاب رپورٹ میں کسی فرد کے خلاف حتمی محکمانہ سزا یا عدالتی فیصلہ بیان نہیں کیا گیا۔
محکمہ صحت نے صوبے میں قائم 278 اینٹی ریبیز ویکسین یونٹس کے طریقہ کار کو زیادہ سخت بنانے، آڈٹ اور نگرانی بہتر کرنے اور ڈیش بورڈ کے ذریعے کیسز کی ٹریکنگ پر بھی توجہ دی ہے۔ یہ اقدامات اس لیے اہم ہیں کہ جانور کے کاٹنے کے بعد بروقت اور درست طبی پروٹوکول ریبیز جیسے مہلک مرض سے بچاؤ میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
حالیہ اموات نے ویکسین کی دستیابی سے آگے بڑھ کر مریض کے جائزے، علاج کے تسلسل، ریکارڈنگ اور ریفرل کے پورے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ حکام کی جاری جانچ سے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ ہر کیس میں کون سی مخصوص کمی یا خلاف ورزی ہوئی اور کس سطح پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے سات اہلکار معطل کیے، متعدد ہسپتال سربراہان سے جواب طلب کیا اور اینٹی ریبیز یونٹس کی نگرانی اور پروٹوکول سخت کرنے کے اقدامات شروع کیے ہیں۔




