اردو ہیڈلائنز ڈیسک — سندھ ہائیکورٹ نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں بھرتیوں سے متعلق معاملے میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ بھرتی کے تمام مراحل میرٹ اور مقررہ قواعد کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق عدالت کے سامنے بھرتیوں کے طریقہ کار سے متعلق درخواست زیر سماعت آئی، جس میں امیدواروں کے حقوق اور انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق نکات اٹھائے گئے تھے۔

عدالت نے معاملے کی سماعت کے دوران اس امر پر زور دیا کہ سرکاری ملازمتوں کے لیے انتخابی عمل واضح قواعد اور میرٹ کے اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ سی ٹی ڈی جیسے حساس ادارے میں بھرتی کے لیے امیدواروں کی اہلیت، متعلقہ ٹیسٹ، دستاویزات اور دیگر مقررہ مراحل کی تکمیل اہم ہوتی ہے، اس لیے عدالت کی ہدایت کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پورا عمل ضابطے کے مطابق مکمل ہو۔

ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو بھرتی کے مراحل میں قانونی اور انتظامی تقاضوں کی پابندی کرنے کی ہدایت کی۔ عدالتی کارروائی میں کسی امیدوار کو قواعد سے ہٹ کر ترجیح دینے کے بجائے یکساں معیار اور میرٹ کے اطلاق کی اہمیت سامنے آئی۔ عدالت کا حکم بھرتی کے عمل کی نگرانی اور امیدواروں کے لیے منصفانہ مواقع یقینی بنانے کے تناظر میں اہم ہے۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سندھ پولیس کا ایک خصوصی شعبہ ہے جو دہشت گردی سے متعلق تحقیقات، انٹیلی جنس اور دیگر متعلقہ ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ ایسے اداروں میں بھرتی کے لیے پیشہ ورانہ اہلیت اور مقررہ جانچ کے مراحل کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ شفاف بھرتی سے ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوامی اعتماد دونوں کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

سندھ ہائیکورٹ کی ہدایت کے بعد اب متعلقہ حکام پر ذمہ داری ہے کہ جاری بھرتی کے تمام مراحل مقررہ قواعد کے مطابق مکمل کریں اور امیدواروں کے ساتھ یکساں طرز عمل اختیار کیا جائے۔ آئندہ پیش رفت میں بھرتی کے مراحل کی تکمیل اور عدالتی حکم پر عمل درآمد اہم ہوگا، جبکہ کسی بھی مزید قانونی تنازع کی صورت میں متعلقہ فریق دوبارہ عدالتی فورم سے رجوع کر سکتے ہیں۔