سندھ کے محکمہ صحت نے حالیہ ہفتوں میں ریبیز سے ہونے والی اموات کے بعد متعدد طبی اہلکاروں کے خلاف انتظامی کارروائی کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق چار ڈاکٹروں، ایک ڈسپنسر، ایک لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور ایک مڈوائف کو معطل کیا گیا ہے، جبکہ سات ہسپتالوں کے سربراہان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ان میں لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد اور ٹنڈو الہ یار کے ضلعی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور شہدادپور انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔
یہ کارروائی چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی ہدایات پر کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کی جانچ میں اینٹی ریبیز ویکسینیشن سے متعلق کیسز کے انتظام میں خامیوں کی نشاندہی ہوئی۔ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران پانچ افراد، جن میں کم عمر بچے بھی شامل تھے، طبی مراکز میں قائم اینٹی ریبیز یونٹس سے رجوع کرنے کے باوجود انتقال کر گئے۔ رپورٹ میں مرنے والوں کی شناخت شہدادپور کے 48 سالہ شہنواز، ٹنڈو الہ یار کے 55 سالہ شکیل احمد، کوٹری کے پانچ سالہ فرمان، حیدرآباد کے چھ سالہ ریان حسین اور ٹنڈو محمد خان کی 35 سالہ خاتون بیگم کے طور پر کی گئی ہے۔
محکمہ صحت کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگست تک رواں سال اینٹی ریبیز سے متعلق اموات کی تعداد 38 تھی۔ تازہ واقعات کے بعد صوبائی انتظامیہ نے معاملے کو صرف انفرادی ذمہ داری تک محدود رکھنے کے بجائے نظام کی نگرانی بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ متعلقہ ہسپتالوں سے وضاحت طلب کرنے کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ مریضوں کو ویکسین، امیونوگلوبیولن، بروقت طبی مشورہ اور فالو اپ کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق سہولت ملی یا نہیں۔
یہ کارروائی فی الحال انتظامی اور تفتیشی نوعیت کی ہے؛ معطلی کو کسی اہلکار کے خلاف حتمی قصور یا فوجداری ذمہ داری کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ مزید ذمہ داری کا تعین محکمانہ ریکارڈ، مریضوں کے علاج کی تفصیلات اور متعلقہ حکام کی وضاحتوں کی جانچ کے بعد ہوگا۔




