لاہور: اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی رسمی بینک فنانسنگ تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کلسٹر بنیاد قرضہ ماڈلز پر مشترکہ مشاورت کی ہے۔ اس مقصد کے لیے لاہور میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں مالیاتی اداروں، صنعتی نمائندوں، شراکت دار تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔
کلسٹر بنیاد فنانسنگ کا تصور یہ ہے کہ ایک ہی شعبے یا جغرافیائی کاروباری گروپ کی مشترکہ خصوصیات، نقد بہاؤ، سپلائی چین اور خطرات کو سمجھ کر قرض کی مصنوعات تیار کی جائیں۔ پاکستان میں بہت سے چھوٹے کاروبار روایتی ضمانتوں، دستاویزی تقاضوں اور بینکوں کے خطرے کے جائزے کی وجہ سے رسمی قرض حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ سمیڈا اور اسٹیٹ بینک کی موجودہ مشق اسی خلا کو کم کرنے کے لیے شعبہ مخصوص معلومات استعمال کرنے پر مرکوز ہے۔
سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہانگیر سیٹھ نے اجلاس میں اس ضرورت پر زور دیا کہ تحقیقی مطالعات اور مختلف صنعتی شعبوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو بینکوں کے لیے تجارتی طور پر قابل عمل قرض مواقع میں تبدیل کیا جائے۔ ان کے مطابق صرف مطالعات تیار کرنا کافی نہیں بلکہ مالیاتی اداروں کو ایسی معلومات درکار ہیں جن کی بنیاد پر وہ مخصوص کاروباری کلسٹرز کے لیے قابل عمل فنانسنگ مصنوعات بنا سکیں۔
سیمینار میں ایس ایم ایز اور بینکاری شعبے کے درمیان روابط مضبوط کرنے، کاروباری ڈیٹا بہتر بنانے اور قرض دہندگان کو مختلف کلسٹرز کی عملی ضروریات سمجھانے پر گفتگو ہوئی۔ تاہم یہ اجلاس کسی نئے قومی قرض پروگرام، مخصوص شرح سود یا فوری مالی پیکیج کے حتمی اجرا کا اعلان نہیں تھا۔ اس مرحلے پر توجہ مطالعات، مشاورت اور ممکنہ فنانسنگ ماڈلز کو عملی شکل دینے کے راستوں پر ہے۔
پاکستان کی معیشت میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار روزگار، مقامی سپلائی چین اور برآمدات کے لیے اہم ہیں، لیکن رسمی قرض میں ان کا حصہ محدود رہنے کی شکایت طویل عرصے سے سامنے آتی رہی ہے۔ کلسٹر بنیاد نقطہ نظر بینکوں کو پورے شعبے کے کاروباری نمونے سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے، مگر اس کی کامیابی قرض کے حقیقی اجرا، قابل برداشت لاگت، دستاویزی آسانی اور قرض واپسی کے نتائج سے ناپی جائے گی۔
سمیڈا اور اسٹیٹ بینک کی مشاورت کا اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ منتخب کلسٹر مطالعات سے کون سی قابل عمل بینکاری مصنوعات یا پائلٹ پروگرام سامنے آتے ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ دونوں اداروں نے مالیاتی شعبے اور صنعت کے ساتھ مل کر ایس ایم ای فنانسنگ میں کلسٹر بنیاد طریقہ کار کو عملی سطح پر جانچنے کا عمل آگے بڑھایا ہے۔




