جوہانسبرگ: جنوبی افریقہ کی حکمران روایت رکھنے والی افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) کو بلدیاتی انتخابات میں بڑا انتخابی دھچکا لگا ہے، جس کے بعد کئی اہم شہری حکومتوں کی تشکیل کے لیے مشکل اتحادی مذاکرات متوقع ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اتوار کو سامنے آنے والے نتائج میں اے این سی نے ملک بھر میں 30.76 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ اس کی مرکزی حریف ڈیموکریٹک الائنس (ڈی اے) کو 24.64 فیصد ووٹ ملے۔

اے این سی کی موجودہ کارکردگی 2021 کے بلدیاتی انتخابات کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جب جماعت نے 45.59 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ سابق صدر جیکب زوما کی جماعت امخونٹو وی سیزوے 9.76 فیصد ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی، جبکہ باقی ووٹ متعدد چھوٹی جماعتوں میں تقسیم ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق بنیادی شہری خدمات، بالخصوص پانی اور بجلی کی فراہمی سے متعلق عوامی شکایات گزشتہ برسوں میں اے این سی کی مقبولیت میں کمی کے عوامل میں شامل رہی ہیں۔

جوہانسبرگ سمیت کئی شہروں میں کسی ایک جماعت نے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کیے۔ اس صورتحال میں اے این سی اور ڈی اے کو یا تو ایک دوسرے کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہوگا یا چھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے اکثریتی بلدیاتی حکومتیں بنانا ہوں گی۔ 2021 کے مقابلے میں اتحادی حکومت درکار ہونے والی میونسپلٹیوں کی تعداد دو گنا سے زیادہ ہو گئی ہے، جو جنوبی افریقہ کے انتخابی منظرنامے میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کی علامت ہے۔

اے این سی کے سیکریٹری جنرل فکیلے مبالولا نے نتیجے کو جماعت کے لیے تباہ کن قرار دیا، تاہم کہا کہ پارٹی اتحادی مذاکرات میں عہدوں کے لیے منت سماجت نہیں کرے گی۔ صدر سیرل رامافوسا نے کثیرالجماعتی جمہوریت اور عوام کے انتخاب کے حق پر زور دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ آئندہ مذاکرات میں عاجزی اور عوامی مفاد کو مقدم رکھیں۔ جماعتوں کے پاس شہری کونسلوں کی تشکیل سے قبل تقریباً 14 روز میں اتحاد طے کرنے کا وقت ہے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر جوہانسبرگ میں ڈی اے نے تقریباً 35 فیصد ووٹ لیے جبکہ اے این سی کو تقریباً 20 فیصد حمایت ملی۔ اس نتیجے نے ڈی اے کی سینئر رہنما ہیلن زیلے کے میئر بننے کے امکانات کو بڑھایا ہے، لیکن حتمی فیصلہ اتحادی معاہدوں پر منحصر ہوگا۔ ایکشن ایس اے، جسے جوہانسبرگ میں تقریباً 16 فیصد ووٹ ملے، کے رہنما ہرمن ماشابا نے رائٹرز سے کہا کہ ان کی جماعت زیلے کو میئر امیدوار رکھتے ہوئے ڈی اے کی حمایت نہیں کرے گی۔ اس لیے شہر کی حکومت کی تشکیل ابھی کھلا سیاسی سوال ہے۔