جنوبی کوریا کی برآمدات اکتوبر 2026 میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 93.7 فیصد بڑھ کر ریکارڈ 115.28 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ جنوری 1974 کے بعد برآمدات میں سب سے تیز سالانہ اضافہ ہے۔ اس غیر معمولی تیزی کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر عالمی سرمایہ کاری، چپس کی مضبوط طلب اور گزشتہ سال کے مقابلے میں اکتوبر میں زیادہ کاروباری دن ہونا تھا۔
وزارت تجارت کے مطابق سیمی کنڈکٹر برآمدات 259.4 فیصد بڑھ کر 56.44 ارب ڈالر رہیں، جبکہ اے آئی خدمات کے لیے سرورز کی مانگ بڑھنے سے کمپیوٹر مصنوعات کی بیرون ملک فروخت میں 496.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چین، امریکا، یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا سمیت اہم منڈیوں کو کھیپ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
جنوری سے اکتوبر تک جنوبی کوریا کی مجموعی برآمدات 930 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ وزیر تجارت کم جنگ کوان نے کہا کہ موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں سالانہ برآمدات نومبر ہی میں ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ ایسا ہونے پر جنوبی کوریا امریکا، چین اور جرمنی کے بعد ایک سال میں ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ برآمدات کرنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔
برآمدی تیزی نے ملکی معیشت کی تیسری سہ ماہی کی توقعات سے بہتر نمو میں بھی مدد دی ہے۔ بڑے چپ ساز اداروں سام سنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس نے اے آئی سے منسلک طلب کے ماحول میں منافع میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا ہے۔ تاہم اکتوبر میں درآمدات بھی 36 فیصد بڑھ کر 72.78 ارب ڈالر رہیں، جس کی وجوہ میں مہنگا خام تیل، سیمی کنڈکٹر پیداواری آلات اور گاڑیوں کی طلب شامل تھی۔
ماہانہ تجارتی سرپلس 42.5 ارب ڈالر رہا، جو ستمبر کے ریکارڈ 49.97 ارب ڈالر سے کم ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی اے آئی سرمایہ کاری جنوبی کوریا کے برآمدی ماڈل کو غیر معمولی رفتار دے رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ توانائی اور صنعتی آلات کی درآمدی لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔
