امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے دیوہیکل اسٹار شپ راکٹ نے اپنی چودھویں آزمائشی پرواز میں پہلی مرتبہ زمین کے مدار تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ یہ پرواز 28 ستمبر کو ٹیکساس میں اسپیس ایکس کے اسٹار بیس کمپلیکس سے ہوئی اور کمپنی کے طویل عرصے سے جاری اسٹار شپ پروگرام کے لیے ایک اہم تکنیکی سنگِ میل ثابت ہوئی۔

اسپیس ایکس کے مطابق فلائٹ 14 کا مقصد پہلی بار مکمل مداری پرواز کی کوشش، نئی نسل کے اسٹارلنک وی تھری سیٹلائٹس کی تعیناتی اور خلائی ماحول میں کئی اہم نظاموں کی جانچ کرنا تھا۔ کمپنی نے تصدیق کی کہ اسٹار شپ مدار میں پہنچا اور سیٹلائٹس کی تعیناتی مکمل کی۔ یہ کامیابی ان پچھلی آزمائشی پروازوں کے بعد سامنے آئی جنہیں جان بوجھ کر ذیلی مداری راستوں تک محدود رکھا گیا تھا تاکہ گاڑی کے نظام، انجن، حرارتی تحفظ اور دوبارہ استعمال سے متعلق صلاحیتوں کی مرحلہ وار جانچ کی جا سکے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پرواز کے دوران اسٹار شپ کے ایک اہم انجن نے غیر متوقع طور پر کام چھوڑ دیا، جس کے بعد مشن کے دورانیے کو تقریباً دس گھنٹے سے کم کر کے قریب تین گھنٹے کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر مشن کنٹرول نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گاڑی مدار تک نہیں پہنچ سکے گی، لیکن انجینئروں کے نئے جائزے کے بعد اسٹار شپ نے مطلوبہ انجن فائرنگ کی اور کامیابی سے مدار میں داخل ہو گیا۔

سپر ہیوی بوسٹر نے اسٹار شپ کو مطلوبہ بلندی تک پہنچانے کے بعد واپس خلیجی پانیوں کی جانب رخ کیا اور کنٹرول شدہ واپسی کی کوشش کی۔ رائٹرز کے مطابق نزول کے دوران بعض بوسٹر انجنوں نے مکمل طور پر کام نہیں کیا، تاہم پرواز سے کمپنی کو بوسٹر کے دوبارہ استعمال اور لینڈنگ نظام کے بارے میں اضافی عملی ڈیٹا حاصل ہوا۔

فلائٹ 14 میں اسٹار لنک کی نئی نسل کے سیٹلائٹس کی تعیناتی بھی ایک نمایاں مرحلہ تھا۔ اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ اسٹار شپ کو مستقبل میں بڑی مقدار میں سامان، سیٹلائٹس اور انسانوں کو مدار، چاند اور اس سے آگے لے جانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ پروگرام کا بنیادی ہدف راکٹ اور خلائی جہاز کے زیادہ سے زیادہ حصوں کو تیزی سے دوبارہ استعمال کے قابل بنانا ہے۔

تازہ پرواز مکمل طور پر بلا مسئلہ نہیں رہی، لیکن مدار تک کامیاب رسائی اور پے لوڈ کی تعیناتی نے اس پروگرام کو عملی طور پر ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ آئندہ آزمائشوں میں انجن کی قابلِ اعتماد کارکردگی، طویل مدتی مداری آپریشن، محفوظ واپسی اور مکمل دوبارہ استعمال کی صلاحیت اہم جانچ کے شعبے رہیں گے۔