میڈرڈ: اسپین میں رہائش کے بڑھتے ہوئے بحران اور پارلیمان میں حکومتی اقدامات مسترد ہونے کے بعد دارالحکومت میڈرڈ سمیت 50 سے زائد شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہسپانوی حکومت نے میڈرڈ کے مظاہرے میں تقریباً 70 ہزار افراد کی شرکت بتائی، جبکہ منتظمین نے اس سے کہیں زیادہ تعداد کا دعویٰ کیا۔
احتجاج ایسے وقت ہوا جب بے دخلیوں اور رہائشی مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کردہ اقدامات ایک روز قبل پارلیمان میں منظور نہ ہو سکے۔ حالیہ ہفتوں میں میڈرڈ میں ایک 87 سالہ خاتون کی بے دخلی نے بھی رہائش کی قیمتوں، کرایوں اور کرایہ داروں کے تحفظ کے معاملے پر عوامی بحث کو تیز کیا تھا۔ مظاہرین میں سے بعض نے عام ہڑتال کے مطالبات والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔
میڈرڈ میں کرایہ داروں کی تنظیم کی ترجمان ویلیریا راکو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مزدور تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے بعد عام ہڑتال کی کال دی جا سکتی ہے۔ دارالحکومت میں احتجاج مجموعی طور پر پرامن رہا، تاہم جنوب مشرقی شہر ویلنسیا میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ رائٹرز کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کی۔
ویلنسیا میں تقریباً 30 مظاہرین عارضی طور پر سٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کی عمارت میں داخل ہوئے، جنہیں بعد میں پولیس نے باہر نکال دیا۔ دوسری جانب بارسلونا اور قریبی شہر ہاسپیتالت دی لوبریگات میں شدید بارش کے باعث طے شدہ مظاہرے منسوخ کر دیے گئے۔
رہائشی قانون سازی کی ناکامی نے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی حکومت پر سیاسی دباؤ بھی بڑھایا ہے۔ ہسپانوی میڈیا میں قبل از وقت انتخابات کے امکان سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں، تاہم وزیراعظم کے دفتر نے ان رپورٹس پر تبصرہ نہیں کیا۔ اس لیے انتخابات کے ممکنہ وقت یا حکومتی فیصلے کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔ 3 اکتوبر کے مظاہروں کا بنیادی مطالبہ رہائش کی دستیابی، کرایوں اور بے دخلیوں سے متعلق زیادہ مؤثر سرکاری اقدامات تھا۔

