کراچی: سپرنیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (ایس ٹی ایل) نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے 467 ملین روپے کا مجموعی خالص منافع رپورٹ کیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے restated اعداد میں یہ رقم 78 ملین روپے تھی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق فی حصص آمدن 1.39 روپے سے بڑھ کر 4.03 روپے ہو گئی اور مجموعی آمدن 4.891 ارب روپے کے restated تقابلی عدد کے مقابلے میں 8.080 ارب روپے رہی۔

کمپنی نے ساتھ ہی ایک اہم وضاحت کی ہے کہ مالی سال 2025 کے تقابلی اعداد یکم جنوری 2025 سے مؤثر انضمام کو ظاہر کرنے کے لیے دوبارہ مرتب کیے گئے ہیں اور ان میں ایس این ایل کے آپریشنز صرف اسی تاریخ سے شامل ہیں۔ اس کے برعکس مالی سال 2026 کے اعداد پورے بارہ ماہ کے ہیں۔ اس لیے رپورٹ میں دکھائی دینے والے منافع یا آمدن کے اضافے کو مکمل طور پر یکساں بنیاد پر نامیاتی نمو سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

نتائج کے مطابق کمپنی کا مجموعی منافع 894 ملین روپے کے restated مالی سال 2025 کے مقابلے میں بڑھ کر 1.940 ارب روپے ہو گیا۔ مجموعی منافع کا مارجن 18.28 فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد رپورٹ ہوا۔ آپریٹنگ منافع 841 ملین روپے رہا اور آپریٹنگ مارجن 9.68 فیصد سے بڑھ کر 10.41 فیصد ہوا۔ یہ اعداد کمپنی کے مجموعی مالی نتائج کی بہتری ظاہر کرتے ہیں، تاہم سال بہ سال تقابل کرتے وقت انضمام کے اثر کو الگ رکھنا ضروری ہے۔

بورڈ نے مالی سال 2026 کے لیے 25 پیسے فی شیئر نقد ڈیویڈنڈ کی سفارش بھی کی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ انضمام کے بعد کمپنی کا پہلا نقد ڈیویڈنڈ ہوگا۔ ڈیویڈنڈ کی حتمی ادائیگی متعلقہ کارپوریٹ منظوریوں اور کمپنی کے قواعد کے مطابق ہوگی؛ بورڈ کی سفارش کو فوری ادائیگی سمجھنا درست نہیں۔

مالی سال کے اختتام کے بعد سپرنیٹ ٹیکنالوجیز نے 914.77 ملین روپے کا رائٹس ایشو بھی مکمل کیا، جس میں حصص 10 روپے فی شیئر کے حساب سے جاری کیے گئے اور کمپنی نے ہدف کے مطابق پوری رقم جمع کرنے کی اطلاع دی۔ رائٹس ایشو سے حاصل ہونے والی سرمایہ کاری کو مالی سال 2026 کے پہلے سے مکمل شدہ آپریٹنگ نتائج کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ پیش رفت سال ختم ہونے کے بعد ہوئی۔

کمپنی کی انتظامیہ نے مستقبل کے بارے میں محتاط موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی شعبوں میں معاشی حالات، مسابقت اور دیگر غیر یقینی عوامل کاروباری ماحول کو چیلنجنگ رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے موجودہ نتائج مالی سال 2026 کی کارکردگی کا ریکارڈ ہیں، جبکہ آئندہ منافع یا آمدن کے بارے میں کوئی یقینی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ایس ٹی ایل کے نتائج میں نمایاں عددی بہتری کے باوجود سب سے اہم حسابی نکتہ یہی ہے کہ مالی سال 2025 کے restated اعداد صرف انضمام کے بعد کے جزوی عرصے کو شامل کرتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے مارجن، نقد بہاؤ، انضمام کے بعد مکمل سال کی آپریشنل کارکردگی اور رائٹس ایشو کے استعمال جیسے عوامل آئندہ رپورٹس میں زیادہ بامعنی موازنہ فراہم کریں گے۔