اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اسلام آباد کی ان اپیلوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 49(2) کے تحت ٹیکس استثنا کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی مخصوص علاقے میں ترقیاتی اور انتظامی کام انجام دینا بذات خود کسی ادارے کو قانونی معنوں میں "مقامی اتھارٹی" نہیں بناتا۔

تین رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کی، جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی بھی بینچ میں شامل تھے۔ فیصلہ جسٹس محمد شفیع صدیقی نے تحریر کیا۔ دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق فیصلہ 17 اگست 2026 کو دیا گیا تھا اور اس کی تفصیلات رواں ہفتے رپورٹ ہوئیں۔

عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا ڈی ایچ اے اسلام آباد انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 49(2) میں استعمال ہونے والی اصطلاح "لوکل اتھارٹی" کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس حیثیت کے لیے صرف ایک متعین جغرافیائی علاقے میں منصوبہ بندی، ترقی یا انتظامی خدمات کافی نہیں؛ ادارے کو ایسے قانونی اختیارات بھی ثابت کرنا ہوتے ہیں جو مقامی خود حکومت کی بنیادی خصوصیات سے تعلق رکھتے ہوں۔

فیصلے کے مطابق ڈی ایچ اے اسلام آباد یہ ثابت نہیں کر سکا کہ اسے اپنے نام سے ٹیکس، ڈیوٹی، سیس یا ریٹ عائد کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے، یا یہ کہ اسے کسی میونسپل یا مقامی فنڈ کے کنٹرول اور انتظام کی قانونی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس کیس میں مطلوبہ قانونی خصوصیات ثابت نہیں ہوئیں۔

مقدمہ ٹیکس سال 2005، 2006، 2007 اور 2008 کے گوشواروں سے متعلق تھا۔ پہلے اپیلٹ فورمز پر ڈی ایچ اے کے مؤقف کو بعض مراحل میں قبول کیا گیا تھا، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے نتیجے کو برقرار رکھتے ہوئے چاروں اپیلیں مسترد کر دیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی ادارے کی عوامی نوعیت کی خدمات یا ترقیاتی کردار کو مقامی اتھارٹی کی قانونی حیثیت کے مساوی نہیں سمجھا جا سکتا۔ فیصلے کا اطلاق اس مقدمے میں پیش کیے گئے قانونی اختیارات اور ریکارڈ کی بنیاد پر ہوا ہے؛ اسے ہر ترقیاتی ادارے کے بارے میں عمومی اصول کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔