اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مناسب پالیسی اقدامات اور مراعات کے ذریعے کاروبار کرنے، اشیا تیار کرنے اور انہیں صارفین تک پہنچانے کی لاگت کم کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کی گنجائش بڑھے اور اس کا فائدہ عام صارفین تک پہنچ سکے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 38 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی معاشی اور سماجی بہبود کو فروغ دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
یہ آبزرویشن پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے مسابقتی کمیشن پاکستان اور کمپیٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران سامنے آئی۔ دو رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس جمال خان مندوخیل نے کی جبکہ جسٹس صلاح الدین پنہور بھی بینچ میں شامل تھے۔ معاملہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کے اجتماعی تعین اور مسابقتی قانون کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق تھا۔
عدالت عظمیٰ نے اس نتیجے کو برقرار رکھا کہ ایسوسی ایشن نے اپنے ارکان کی جانب سے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں اجتماعی طور پر طے کرکے مسابقتی قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ تاہم عدالت نے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن پر عائد جرمانہ 5 کروڑ روپے سے کم کرکے 3 کروڑ روپے کر دیا۔ عدالت کے مطابق مسابقت کرنے والے کاروباری اداروں کو اپنی قیمتیں آزادانہ طور پر اور اپنے انفرادی تجارتی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے طے کرنا چاہئیں۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جب حریف کاروبار براہ راست یا کسی تجارتی انجمن کے ذریعے مشترکہ قیمت طے کرتے ہیں تو آزادانہ کاروباری فیصلے کی جگہ ایک مشترکہ قیمت لے لیتی ہے، جس سے مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ کیس کے پس منظر میں 2007 سے 2009 کے دوران مہنگائی اور ضروری اشیا کی قیمتوں کے بارے میں عوامی تشویش کا ذکر بھی کیا گیا۔ اس عرصے میں وفاقی حکومت نے صنعت سے کہا تھا کہ عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جائے۔
ڈان کے مطابق حکومت اور ایسوسی ایشن کے درمیان رابطوں کے بعد گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی ہوئی، لیکن بعد میں مسابقتی کمیشن نے مئی 2011 میں ایسوسی ایشن کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ کمیشن کا مؤقف تھا کہ ایسوسی ایشن نے اپنے ارکان کی جانب سے حکومت کے ساتھ قیمتوں پر مذاکرات اور ان کے تعین میں مرکزی کردار ادا کیا، جو کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی متعلقہ دفعات کی خلاف ورزی بنتا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کے لیے ایسوسی ایشن سے مشاورت میں مسابقتی کمیشن کو شامل نہیں کیا گیا اور اس کے بعد ایسوسی ایشن کی سطح پر قیمتوں کا اجتماعی تعین ہوا، جسے عدالت نے مسابقتی قانون کے منافی قرار دیا۔ عدالت نے اس اصول پر زور دیا کہ صارفین کے مفاد کے لیے قیمتوں میں کمی مطلوب ہو سکتی ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے اختیار کیا جانے والا طریقہ بھی قانون اور آزاد مسابقت کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
فیصلے میں مسابقتی کمیشن کے آگاہی اور وکالت کے کردار پر بھی زور دیا گیا۔ عدالت کے مطابق مسابقتی قوانین کا مقصد صرف خلاف ورزی کے بعد جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ مارکیٹ میں پہلے سے ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں صنعت کار، سپلائر اور صارفین مسابقت کے اصولوں سے آگاہ ہوں۔ کمیشن کو اپنی قانونی ذمہ داری کے مطابق باقاعدگی سے آگاہی پیدا کرنی چاہیے تاکہ غیر مسابقتی طرز عمل کی روک تھام ہو سکے۔
عدالت نے کہا کہ جرمانہ عائد کرنے کا اختیار کمیشن کے مینڈیٹ کا اہم حصہ ہے، تاہم اسے ایسے حالات میں آخری اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں مسابقتی ماحول کے فروغ اور قانون پر عمل درآمد کی کوششیں مؤثر ثابت نہ ہوں۔ ساتھ ہی عدالت نے واضح کیا کہ اگر دستیاب مواد کسی قانونی شق کی واضح خلاف ورزی ظاہر کرتا ہو تو کمیشن کے لیے ہر مقدمے میں پہلے اپنی مشاورتی یا آگاہی کی تمام سرگرمیاں مکمل کرنا ضروری نہیں؛ ایسی صورت میں اسے قانون کے مطابق اپنے نفاذی اختیارات استعمال کرنا چاہئیں۔
اس فیصلے میں کاروباری لاگت، صارفین کے لیے قیمتوں اور آزاد مسابقت کے درمیان تعلق کو نمایاں کیا گیا ہے۔ عدالت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حکومت پالیسی کے ذریعے کاروباری اور پیداواری اخراجات کم کرنے میں سہولت فراہم کرے، جبکہ مارکیٹ کے حریف ادارے اپنی قیمتوں کے فیصلے آزادانہ طور پر کریں اور کسی انجمن یا اجتماعی انتظام کے ذریعے قیمت مقرر کرنے سے گریز کریں۔
— اردو ہیڈلائنز ڈیسک، ماخذ: ڈان




