اسلام آباد/کراچی: سویڈش اور نارڈک کمپنیوں، پاکستانی ٹیکسٹائل مینوفیکچررز اور صنعت سے وابستہ اداروں نے کراچی میں سسٹین ایبل ٹیکسٹائل پلیٹ فارم کے دوسرے میچ میکنگ ایونٹ میں شرکت کی، جہاں پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کی گرین ٹرانزیشن کے لیے عملی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ پلیٹ فارم 2024 میں پاکستان میں سویڈن کے سفارت خانے اور بزنس سویڈن نے شروع کیا تھا تاکہ پاکستانی اور سویڈش فریق پائیدار پیداوار سے متعلق علم، پالیسی اور کاروباری حل کا تبادلہ کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق اس سال کے اجلاس میں پاکستان کے وہ مقامی سپلائرز بھی شریک ہوئے جو آئی کیا اور ایچ اینڈ ایم جیسے سویڈش برانڈز کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ نارڈک ٹیکنالوجی فراہم کنندگان اور دیگر صنعتی شراکت داروں نے توانائی کی کارکردگی، پانی کے بہتر انتظام، وسائل کے موثر استعمال، صاف پیداوار اور گرین سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستانی فیکٹریوں کی عملی ضروریات کو ایسی ٹیکنالوجی اور خدمات سے جوڑا جائے جو پیداوار کے ماحولیاتی اثرات اور لاگت دونوں میں کمی لا سکیں۔
پاکستان میں سویڈن کی سفیر الیگزینڈرا برگ وان لنڈے نے کہا کہ گرین ٹرانزیشن کسی ایک کمپنی یا ایک ملک کے ذریعے ممکن نہیں اور اس کے لیے پوری ویلیو چین میں تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے اجلاس میں پاکستانی سپلائرز کی طرف سے درپیش مشکلات اور سویڈش و نارڈک کمپنیوں کی طرف سے پیش کیے گئے ممکنہ حل کو عملی شراکت داری کی بنیاد قرار دیا۔ بزنس سویڈن کے ایشیا پیسیفک خطے کے نائب صدر ایمل اکانڈر نے کہا کہ ایسے پروگرام پائیداری کے اہداف کو کاروباری مواقع میں بدلنے اور صنعت کی ضرورت کو دستیاب ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
پلیٹ فارم اس سے قبل 2025 میں اسلام آباد میں گرین انرجی تک رسائی پر پالیسی مکالمہ اور بعد ازاں کراچی میں پہلا میچ میکنگ ایونٹ منعقد کر چکا ہے۔ موجودہ اجلاس میں پہلی مرتبہ فنانسنگ کو بھی میچ میکنگ فارمیٹ کا نمایاں حصہ بنایا گیا تاکہ کمپنیوں کو توانائی، پانی اور کلینر پروڈکشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے عملی راستے میسر آ سکیں۔
پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ برآمدات اور روزگار کے اعتبار سے اہم ہے، اس لیے توانائی اور پانی کی کارکردگی میں بہتری برآمدی مسابقت اور بین الاقوامی خریداروں کی پائیداری سے متعلق شرائط دونوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ تاہم اجلاس میں ہونے والی بات چیت کو کسی حتمی سرمایہ کاری یا تجارتی معاہدے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار فالو اپ ملاقاتوں، فنانسنگ کی دستیابی اور ان روابط کے عملی منصوبوں یا شراکت داریوں میں تبدیل ہونے پر ہوگا۔

