تائیٹنگ: تائیوان کو امریکہ سے خریدے گئے نئے ایف-16 وی بلاک 70 لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2019 میں آرڈر کیے گئے 66 طیاروں میں سے پہلے دو جمعہ کو تائیوان کے مشرقی ساحل پر واقع تائیٹنگ کے چیہانگ ایئر بیس پہنچے۔ طیاروں کی ترسیل کئی ماہ کی تاخیر کے بعد ہوئی ہے اور تائیوان کی فضائیہ انہیں اپنی موجودہ صلاحیت میں اضافے کے طور پر دیکھتی ہے، ایسے وقت میں جب چینی فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے تائیوان کے طیارے باقاعدگی سے پرواز کرتے ہیں۔

تائیوان نے امریکی دفاعی سازوسامان کی بعض ترسیلات میں تاخیر پر ماضی میں تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں طیارے ہوائی اور گوام کے راستے سفر کے بعد مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب اترے۔ تائیوان کے وزیر دفاع ویلنگٹن کو نے پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مزید نئے ایف-16 وی جلد پہنچیں گے، تاہم انہوں نے اگلی کھیپ کی تعداد یا تاریخ نہیں بتائی۔

امریکہ نے 2019 میں تقریباً 8 ارب ڈالر مالیت کے 66 ایف-16 وی طیاروں کی فروخت کی منظوری دی تھی۔ اس پروگرام کی تکمیل کے بعد تائیوان کے ایف-16 بیڑے کی تعداد 200 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ سافٹ ویئر سمیت مختلف تکنیکی مسائل کو ترسیل میں تاخیر کی وجوہ میں شمار کیا گیا ہے۔ تائیوان نے اپنے پہلے سے موجود ایف-16 طیاروں کو جدید بنانے کا پروگرام 2023 میں مکمل کیا تھا۔

نئے ایف-16 وی میں جدید ریڈار، ایویونکس اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔ تائیوان کی دفاعی منصوبہ بندی میں ان طیاروں کو چینی فضائیہ کی جدید صلاحیتوں کے مقابلے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ تائیوان کو دفاعی وسائل فراہم کرتا ہے، اگرچہ واشنگٹن اور تائی پے کے رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور امریکہ سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے نئے طیاروں کی آمد پر فوری تبصرہ نہیں کیا، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن انڈو پیسیفک میں اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ سلامتی اور مشترکہ مفادات کے لیے کھڑا ہے۔