خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر مسلح حملے میں تین پولیس اہلکار شہید اور تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ ڈان نے ابتدائی پولیس رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ واقعہ پیر 28 ستمبر کو ٹانک کے وزیرآباد علاقے میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ٹریفک پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کی زد میں آکر تین ٹریفک پولیس اہلکار جان سے گئے۔ دو راہ گیر بھی زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ دستیاب رپورٹ میں مجموعی طور پر تین افراد کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ حملہ آور واقعے کے بعد ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لیا گیا اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی شناخت، گرفتاری اور لے جائی گئی گاڑی کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ خبر کی اشاعت تک حملہ آوروں کی شناخت یا کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے پر افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ سینئر حکام سے رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے تعزیت کی اور حکام کو زخمیوں کے علاج کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
اس واقعے کے بارے میں دستیاب معلومات پولیس کی ابتدائی رپورٹ اور حکام کے بیانات پر مبنی ہیں۔ حملے کی ذمہ داری، حملہ آوروں کے ممکنہ تعلق یا محرک کے بارے میں پولیس نے کوئی حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا، اس لیے کسی گروہ یا تنظیم سے نسبت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ تفتیش مکمل ہونے اور حکام کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر واقعے کے پس منظر اور ذمہ داروں سے متعلق تصویر واضح ہوگی۔
