کراچی: ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے 3 لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے سودے حتمی شکل دے دیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی 22 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی غذائی اجناس کی رسد اور گندم کے ذخائر سے متعلق سرکاری انتظامات کا حصہ ہے۔
ٹی سی پی وفاقی سطح پر مختلف ضروری اشیا کی درآمد اور خریداری کے عمل میں کردار ادا کرتی ہے۔ گندم کے حالیہ سودوں کی تکمیل کا مطلب یہ ہے کہ درآمدی مقدار کے لیے تجارتی انتظامات طے پا گئے ہیں، تاہم گندم کی عملی ترسیل، بندرگاہ پر آمد اور ملک کے اندر تقسیم الگ مراحل ہیں اور ان کے لیے متعلقہ شیڈول اور لاجسٹک انتظامات اہم ہوں گے۔
پاکستان میں گندم کی دستیابی زرعی پیداوار، سرکاری ذخائر، صوبائی خریداری، نجی منڈی اور درآمدی فیصلوں کے مجموعی اثر سے طے ہوتی ہے۔ درآمدی گندم کے سودوں کو مقامی منڈی کی قیمتوں یا مستقبل کی غذائی مہنگائی کے بارے میں قطعی پیش گوئی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ قیمتوں پر نقل و حمل، شرح مبادلہ، عالمی گندم نرخ اور اندرون ملک رسد سمیت کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
3 لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن کی مقدار قابل ذکر ہے اور اس کے باعث درآمدی سپلائی میں اضافہ متوقع ہے، لیکن دستیاب رپورٹ میں اس مقدار کو پاکستان کی مجموعی سالانہ ضرورت کا مکمل متبادل قرار نہیں دیا گیا۔ اسی طرح سودوں کی حتمی قیمت، ہر کھیپ کی الگ لاگت اور ترسیل کے مکمل ٹائم ٹیبل سے متعلق تفصیلات سامنے آنے پر مالی اثرات زیادہ واضح ہوں گے۔
حکومت کے لیے گندم کی خریداری اور درآمد کا معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ اس کا تعلق آٹے کی دستیابی، کسانوں کو ملنے والی مقامی قیمت اور سرکاری ذخائر تینوں سے ہے۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ ٹی سی پی نے 365,000 میٹرک ٹن گندم کے درآمدی سودے حتمی کر لیے ہیں؛ آئندہ مرحلے میں کھیپوں کی آمد اور تقسیم کی تفصیلات اہم رہیں گی۔
