کراچی: ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے 107,739 میٹرک ٹن درآمدی سفید ریفائنڈ چینی برآمد کرنے کے ٹینڈر میں کوئی بولی موصول نہیں ہوئی۔ ٹینڈر 30 ستمبر کو کھولا گیا تھا اور رپورٹ کے مطابق بنیادی وجہ حکومت کی مقرر کردہ 660 ڈالر فی میٹرک ٹن کم از کم ریزرو قیمت اور عالمی مارکیٹ کے نسبتاً کم نرخوں کے درمیان نمایاں فرق تھا۔

ٹی سی پی نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر 6 ستمبر کو پپری گودام کراچی سے ایکس ورکس بنیاد پر چینی برآمد کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔ یہ چینی گزشتہ سال ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے درآمد کی گئی تھی، جبکہ بعد میں سرپلس دستیابی کے باعث نئی کرشنگ سیزن سے پہلے اضافی ذخیرہ برآمد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

ٹینڈر میں تمام 11 لاٹس کے لیے یکساں ریزرو قیمت 184,800 روپے فی میٹرک ٹن مقرر کی گئی، جو 280 روپے فی ڈالر کے حساب سے 660 ڈالر بنتی ہے۔ مجموعی ریزرو ویلیو تقریباً 19.91 ارب روپے یا 71.1 ملین ڈالر بتائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں سفید ریفائنڈ چینی کی قیمت تقریباً 505 سے 515 ڈالر فی میٹرک ٹن تھی۔ اس طرح ٹی سی پی کی کم از کم قیمت عالمی نرخ سے تقریباً 145 ڈالر فی ٹن تک زیادہ تھی، جس سے تجارتی خریداروں کے لیے ٹینڈر کم پرکشش ہوگیا۔

شرکت بڑھانے کے لیے ارنسٹ منی کی شرط 10 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کردی گئی تھی، لیکن اس رعایت کے باوجود کوئی بولی سامنے نہیں آئی۔ بولی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ شرائط پر فروخت کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا؛ آئندہ ٹینڈر، قیمت یا شرائط میں ممکنہ تبدیلی کا فیصلہ متعلقہ حکام کریں گے۔

چینی کے سرکاری ذخیرے کی برآمدی حکمت عملی عالمی قیمت، مقامی دستیابی اور اگلے کرشنگ سیزن کے وقت سے جڑی ہوئی ہے۔ موجودہ ٹینڈر کا تصدیق شدہ نتیجہ صفر بولیاں ہے، جبکہ اس ناکامی کے بعد اگلے انتظامی اقدام کی تفصیل الگ اعلان کی محتاج ہوگی۔