ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) نے ملکی ضروریات کے لیے 3 لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے معاہدے حتمی کر لیے ہیں، جبکہ باقی ضرورت پوری کرنے کے لیے مزید 1 لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن کا دوسرا بین الاقوامی ٹینڈر جاری کیا گیا ہے۔ Business Recorder کے مطابق یہ خریداری 348.83 ڈالر فی میٹرک ٹن کی یکساں منظور شدہ قیمت پر سات سپلائرز سے کی جا رہی ہے۔

ٹی سی پی نے 8 ستمبر کو 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے لیے پہلا ٹینڈر جاری کیا تھا، جس کی بولیاں 16 ستمبر کو کھولی گئیں۔ مجموعی طور پر 13 فریقوں نے حصہ لیا؛ دو نے معذرتی خطوط جمع کرائے، نو بولیاں تکنیکی اور مالی اعتبار سے قابلِ قبول قرار پائیں جبکہ دو غیر موزوں قرار دی گئیں۔ قابلِ قبول نو بولیوں میں مجموعی طور پر 6 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن گندم کی پیشکش شامل تھی اور قیمتیں 348.83 ڈالر سے 369.95 ڈالر فی میٹرک ٹن کے درمیان تھیں۔

سب سے کم بولی Agrocorp نے 55 ہزار میٹرک ٹن کے لیے 348.83 ڈالر فی ٹن دی۔ بولیوں کے جائزے کے بعد ٹی سی پی نے اسی کم ترین نرخ کو بنیاد بنایا اور دیگر موزوں بولی دہندگان کو بھی برابر مقدار کے لیے یہ قیمت قبول کرنے کی پیشکش کی۔ Business Recorder کے مطابق باقی آٹھ میں سے چھ بولی دہندگان نے یہ نرخ مان لیا، جس کے بعد سات سپلائرز کے ساتھ مجموعی طور پر 3 لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن کے معاہدے مکمل ہوئے۔

ٹینڈر کی شرائط کے مطابق کامیاب سپلائرز کو گندم 11 اکتوبر سے 31 اکتوبر 2026 کے درمیان روانہ کرنا ہوگی، جبکہ اجناس کی پاکستان آمد 20 نومبر تک متوقع ہے۔ درآمد کراچی یا گوادر بندرگاہ پر CFR بنیاد پر ہوگی۔

صوبوں کی جانب سے اپنی ضروریات کم کیے جانے کے بعد حکومت کا گندم درآمدی ہدف پہلے کے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن سے گھٹا کر 5 لاکھ 50 ہزار ٹن کر دیا گیا ہے۔ اسی نظرثانی شدہ ہدف کو مکمل کرنے کے لیے ٹی سی پی نے 1 لاکھ 85 ہزار میٹرک ٹن کا دوسرا ٹینڈر جاری کیا ہے۔ اس میں کم از کم 60 ہزار میٹرک ٹن کی پیشکش قبول کی جائے گی اور بولیاں 28 ستمبر کو کھولی جائیں گی۔

ٹی سی پی کی سرکاری ویب سائٹ پر ستمبر 2026 کے پہلے ٹینڈر اور اس کی evaluation report بھی درج ہے، جو ابتدائی 7 لاکھ 50 ہزار ٹن خریداری کے عمل کی تصدیق کرتی ہے۔ گندم کی درآمد کا فیصلہ گزشتہ فصل میں کم پیداوار اور صوبائی طلب کے پس منظر میں کیا گیا، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ درآمدی اسٹاک کا مقصد دستیابی برقرار رکھنا اور ممکنہ قلت کے خطرے کو کم کرنا ہے۔