تھرپارکر میں ایک بنیادی صحت مرکز کے احاطے میں کھڑی ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے اور آگ لگنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق ریسکیو حکام نے بتایا کہ ایک زخمی شخص مٹھی منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گیا، جس کے بعد مجموعی جانی نقصان بڑھ گیا۔ واقعہ 29 اکتوبر کو نگرپارکر کے علاقے میں بیسک ہیلتھ یونٹ پلس سہولت پر پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق ایمبولینس پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کے زیرِ استعمال تھی۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ عملہ ایمبولینس کا آکسیجن سلنڈر تبدیل کر رہا تھا جب دھماکا ہوا اور گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ اسسٹنٹ کمشنر نگرپارکر ارم کریم ناریجو نے تصدیق کی کہ ایمبولینس صحت مرکز میں کھڑی تھی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ایک حاملہ خاتون اس وقت ایمبولینس کے اندر موجود تھی جب سلنڈر نصب کرنے کا عمل جاری تھا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں پی پی ایچ آئی کا ایک ڈسپنسر، ایمبولینس ڈرائیور، چوکیدار اور ایک اور ملازم شامل تھے۔ ابتدائی معلومات میں حاملہ خاتون اور دو تیمارداروں کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاع دی گئی۔ دو دائیوں اور بنیادی مرکز کی ایک خاتون اٹینڈنٹ سمیت زخمیوں کو علاج کے لیے سول ہسپتال مٹھی منتقل کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اور محکمہ صحت کی ٹیمیں جائے وقوع پر موجود رہیں اور حکام مرنے والوں کی مکمل شناخت کے عمل پر بھی کام کرتے رہے۔
اہم طور پر دھماکے کی حتمی تکنیکی وجہ ابھی سرکاری طور پر طے نہیں کی گئی۔ دستیاب بیان صرف یہ بتاتا ہے کہ سلنڈر تبدیل یا نصب کیے جانے کے دوران دھماکا اور آگ کا واقعہ پیش آیا؛ اس مرحلے پر کسی فرد یا ادارے کی غفلت کو ثابت شدہ نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ واقعے نے دور دراز تھرپارکر میں طبی سہولتوں، ایمبولینس آپریشنز اور آکسیجن سلنڈرز کی محفوظ ہینڈلنگ کے طریقہ کار پر توجہ دوبارہ مرکوز کر دی ہے۔ کسی بھی ذمہ داری کا تعین متعلقہ انتظامی یا تکنیکی تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

