واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار ارتقا پر سخت عالمی حفاظتی ضابطے عائد کرنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کے خدشات کو ’ہوکس‘ قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکا کو چین کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر متعدد پیغامات میں کہا کہ امریکا کے لیے اے آئی میں برتری قومی سلامتی، معیشت اور عالمی تکنیکی قیادت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے ان حلقوں پر تنقید کی جو جدید ماڈلز کی ترقی کی رفتار کم کرنے یا صنعت پر سخت پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے خاص طور پر انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے حال ہی میں اے آئی کمپنیوں سے ماڈلز کی ترقی میں احتیاط اور رفتار میں کمی کی اپیل کی تھی۔ رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین اور ایکس اے آئی کے مالک ایلون مسک نے بھی بعض نئے خطرات پر مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت سے متعلق گفتگو کی ہے۔

ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے ضابطے کیوں چاہیں گی جو، ان کے بقول، کاروباروں کو مالی اور مسابقتی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کی انتظامیہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور متعلقہ انفراسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری کو امریکی صنعتی پالیسی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔

یہ بحث ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ماہرین کے درمیان اس بات پر اختلاف بڑھ رہا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال، خودکار سائبر حملوں، حیاتیاتی خطرات یا دیگر شدید نتائج سے کیسے نمٹا جائے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی ممالک اور کمپنیوں سے فوری حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اے آئی سے متعلق اجلاس کی تیاری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

چین بھی مصنوعی ذہانت کو عالمی تکنیکی مقابلے کا مرکزی میدان قرار دے رہا ہے اور وہاں کے سکیورٹی حکام نے جدید اے آئی نظاموں سے اہم انفارمیشن انفراسٹرکچر کو لاحق ممکنہ خطرات پر تنبیہ کی ہے۔ اس طرح واشنگٹن اور بیجنگ دونوں میں اے آئی کو بیک وقت اقتصادی موقع، قومی طاقت اور سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا تازہ مؤقف امریکی پالیسی بحث میں ایک واضح لکیر کھینچتا ہے: ان کی ترجیح تیز رفتار ترقی اور چین پر برتری ہے، جبکہ حفاظتی ضابطوں کے حامی اس رفتار کے ساتھ زیادہ سخت نگرانی اور بین الاقوامی تعاون چاہتے ہیں۔