ترکی، سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ نے 22 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں سعودی عرب کے بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی گئی۔ یہ بیان یمن سے ہونے والے حملوں اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا۔

مشترکہ بیان میں چاروں ملکوں نے خطے میں شہری آبادی، اہم تنصیبات اور بحری آمدورفت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ وزرائے خارجہ نے بحیرہ احمر، باب المندب اور دیگر اہم سمندری راستوں میں محفوظ نیویگیشن کو علاقائی اور عالمی تجارت کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ جاری تنازعات اور سرحد پار حملے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔

چاروں ممالک نے کہا کہ پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری بنیادی راستہ ہیں۔ بیان میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور یمن میں سیاسی عمل کے ذریعے استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ فریقین نے علاقائی تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی پابندی کو اہم قرار دیا۔

پاکستان کی شرکت اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سعودی عرب، ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم مشترکہ بیان نے کسی نئی فوجی تعیناتی، مشترکہ آپریشن یا دفاعی معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔ اس کا مرکزی نکتہ سعودی عرب کے حقِ دفاع کی سیاسی و سفارتی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت تھا۔

مشرقِ وسطیٰ میں بحری راستوں کی سلامتی عالمی توانائی اور تجارتی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ اسی وجہ سے نیویارک میں ہونے والی اس ملاقات میں دفاعی خدشات کے ساتھ ساتھ محفوظ جہاز رانی اور سفارتی حل کو بھی نمایاں حیثیت دی گئی۔