ترکیہ کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی ٹرکیے نیوکلیئر انرجی انکارپوریٹڈ، جسے TUNAS کے نام سے جانا جاتا ہے، اور امریکی ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی نے اگلی نسل کی جوہری ٹیکنالوجیز کے جائزے کے لیے گرانٹ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ترک وزیر توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بیرقدار کے مطابق معاہدہ 22 ستمبر 2026 کو نیویارک میں ترک ایوان، ترکوَی، میں ہونے والی تقریب کے دوران طے پایا۔

معاہدے کا مرکز چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز، یعنی ایس ایم آرز، اور چوتھی نسل کے جوہری ری ایکٹرز ہیں۔ ترک حکام کے مطابق امریکی گرانٹ کے ذریعے ان ٹیکنالوجیز کی تکنیکی قابلیت، معاشی افادیت اور ریگولیٹری تقاضوں کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔ اس مرحلے پر معاہدہ کسی مخصوص ری ایکٹر کی تعمیر کا حتمی فیصلہ نہیں بلکہ مختلف ٹیکنالوجی آپشنز کی فزیبلٹی جانچنے کا فریم ورک ہے۔

وزیر توانائی بیرقدار نے کہا کہ ترکیہ اپنی توانائی کے ذرائع میں تنوع بڑھانے، 2053 تک نیٹ زیرو اخراج کے ہدف اور توانائی میں زیادہ خودمختاری کے لیے جدید جوہری آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق بڑے جوہری بجلی گھروں کے ساتھ ایسی ٹیکنالوجیز بھی دیکھی جائیں گی جو نسبتاً چھوٹے پیمانے پر، مرحلہ وار اور مختلف مقامات پر استعمال ہو سکتی ہوں۔

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر روایتی بڑے جوہری بجلی گھروں کے مقابلے میں کم گنجائش کے ری ایکٹر ہوتے ہیں جن کے کئی حصے فیکٹری میں تیار کر کے مقام پر نصب کیے جا سکتے ہیں۔ حامیوں کے مطابق اس طریقے سے تعمیراتی وقت اور سرمایہ کاری کے بعض خطرات کم ہو سکتے ہیں، جبکہ ناقدین لاگت، جوہری فضلے، سلامتی اور ضابطہ کاری سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ترکیہ اور امریکی ایجنسی کے معاہدے میں ریگولیٹری اور معاشی جائزے کو بھی بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔

یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہفتے کے دوران نیویارک میں ترکیہ اور امریکا کے وسیع تر رابطوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک نیٹو اتحادی ہیں، لیکن دفاع، علاقائی سلامتی اور توانائی سمیت کئی شعبوں میں تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار بھی رہے ہیں۔ تازہ جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ توانائی کے شعبے میں عملی تعاون کی ایک نئی مثال ہے، تاہم اس کے بعد کسی مخصوص منصوبے، مقام، لاگت یا تعمیراتی ٹائم لائن کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔