دبئی: متحدہ عرب امارات کے حکام نے فلائی دبئی کی ایک پرواز کے کاک پٹ میں پیش آنے والے حملے کو دہشت گرد کارروائی قرار دیتے ہوئے تحقیقات سے متعلق نئی تفصیلات جاری کی ہیں۔ حکام کے مطابق معاون پائلٹ نے دوران پرواز کپتان پر ہنگامی کلہاڑی سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ واقعے کے باوجود کپتان نے طیارے کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات نے مشتبہ معاون پائلٹ کی شناخت عمانی شہری کے طور پر کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور اس کے محرکات، تیاری اور ممکنہ روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کی درجہ بندی حکام کا قانونی اور تفتیشی مؤقف ہے؛ حتمی فوجداری ذمہ داری متعلقہ عدالتی عمل سے طے ہوگی۔
واقعے میں استعمال ہونے والی ہنگامی کلہاڑی عام طور پر طیارے میں مخصوص ہنگامی حالات کے لیے رکھی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق اسی آلے سے کپتان پر حملہ کیا گیا۔ کاک پٹ کے اندر کنٹرول کے لیے ہونے والی جدوجہد نے مسافروں اور عملے کی سلامتی کے حوالے سے سنگین خطرہ پیدا کیا، تاہم طیارہ تباہ ہونے سے بچ گیا۔
تحقیقاتی ادارے اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ معاون پائلٹ نے یہ اقدام کیوں کیا، آیا اس نے پہلے سے منصوبہ بندی کی تھی، اور کیا کسی دوسرے شخص یا گروہ سے رابطے کے شواہد موجود ہیں۔ دستیاب سرکاری معلومات میں ہر سوال کا حتمی جواب سامنے نہیں آیا، اس لیے محرکات سے متعلق قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔
یہ واقعہ شہری ہوا بازی میں کاک پٹ سکیورٹی، عملے کی جانچ اور ہنگامی آلات تک رسائی کے ضوابط پر نئی توجہ کا باعث بنا ہے۔ ایئر لائن اور اماراتی حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے پر مزید تفصیلات جاری کریں گے۔ فی الحال مصدقہ معلومات اتنی ہیں کہ حکام نے حملے کو دہشت گرد کارروائی کے طور پر تفتیش میں شامل کیا ہے، مشتبہ شخص معاون پائلٹ تھا اور کپتان پر حملے کے باوجود پرواز کو بڑے حادثے سے بچا لیا گیا۔

