لندن: برطانیہ نے اپنے اہم فوجی اور مواصلاتی سیٹلائٹس کے تحفظ کے لیے رائل ایئر فورس میں ایک نیا مخصوص خلائی اسکواڈرن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ یونٹ ایسے خطرات کے خلاف عملی صلاحیت فراہم کرے گا جو برطانوی خلائی اثاثوں کو متاثر، جام یا ناکارہ بنانے کی کوشش کریں۔

ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نئے یونٹ کا نام نمبر تھری اسپیس ایفیکٹس اسکواڈرن ہوگا۔ وزارت دفاع نے اسے برطانیہ کا پہلا ایسا مخصوص اسکواڈرن قرار دیا ہے جس کا مقصد خلا میں برطانوی مفادات کے خلاف دشمن سرگرمی کو روکنا، کمزور کرنا یا ناکام بنانا ہوگا۔ اس کی ذمہ داریوں میں اہم مواصلاتی سیٹلائٹس اور میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع دینے والے نظاموں کا تحفظ شامل ہوگا۔

برطانیہ نے 2023 میں دو اسکواڈرن قائم کیے تھے جن کا بنیادی کام خلائی خطرات کی نگرانی اور ان سے خبردار کرنا تھا۔ نئے یونٹ کا کردار اس سے آگے بڑھ کر خطرات کے خلاف کارروائی کرنا ہوگا اور وزارت دفاع کے مطابق اس میں الیکٹرانک وارفیئر سمیت جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔

رائل ایئر فورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل ہارو سمتھ کو لندن میں ہونے والی یو کے اسپیس پاور کانفرنس کے دوران اسکواڈرن کا باضابطہ افتتاح کرنا ہے۔ برطانوی حکام نے اس اقدام کو تیزی سے بدلتی ہوئی خلائی سکیورٹی صورتحال اور دوسرے ممالک کی بڑھتی ہوئی فوجی خلائی صلاحیتوں کے تناظر میں پیش کیا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے حال ہی میں پہلی مرتبہ مدار میں ہتھیار تعینات ہونے کی تصدیق کی، جس کے بعد چین نے خلا کو میدان جنگ بنانے سے گریز پر زور دیا اور روس نے بھی خلا کو ہتھیاروں سے پاک رکھنے کی بات کی۔ مختلف ممالک کے بیانات خلائی عسکریت کاری سے متعلق بڑھتی تشویش کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ جامع عالمی قانونی فریم ورک کے بارے میں بحث جاری ہے۔ برطانوی اسپیس کمانڈ کے سربراہ نے گزشتہ سال روس کی جانب سے برطانوی فوجی سیٹلائٹس کو جام کرنے کی مبینہ کوششوں پر تشویش ظاہر کی تھی۔ روسی سرگرمی سے متعلق یہ برطانوی عہدیدار کا دعویٰ تھا، جس کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔