کیف: یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روسی آئل ریفائنریز پر حملوں میں اضافہ کرے گا، جسے انہوں نے ماسکو کی شہری اور اہم انفراسٹرکچر پر مبینہ نئی فضائی حملہ حکمت عملی کا جواب قرار دیا۔ زیلنسکی نے ساتھ یہ بھی کہا کہ یوکرین کی جوابی کارروائیوں میں روسی شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

زیلنسکی کے مطابق یوکرینی انٹیلی جنس کو ایسی دستاویزات ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس موسم سرما سے پہلے حملوں کا دائرہ وسیع کر کے لاجسٹکس، سڑکوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ یہ دعویٰ یوکرینی صدر کی جانب سے کیا گیا ہے؛ رائٹرز کی رپورٹ میں ان مبینہ دستاویزات کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں تھی۔

یوکرین پہلے ہی روس کے تیل صاف کرنے والے کارخانوں اور توانائی تنصیبات کو طویل فاصلے کے ڈرون حملوں سے نشانہ بناتا رہا ہے۔ کیف کا مؤقف ہے کہ یہ تنصیبات روس کی جنگی معیشت اور فوجی ایندھن کی فراہمی میں کردار ادا کرتی ہیں۔ روس ان حملوں کو اپنی سرزمین پر یوکرینی کارروائیاں قرار دیتا ہے اور جواب میں یوکرین کے توانائی اور دیگر انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر میزائل و ڈرون حملے کرتا رہا ہے۔

یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی فوجی دباؤ کے باوجود بعض محاذوں پر یوکرینی فورسز نے زمین واپس حاصل کی ہے اور ملک نئی اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی اور طویل فاصلے کے ہتھیار بھی تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے مغربی اتحادیوں سے دفاعی مالی اور تکنیکی مدد جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان توانائی انفراسٹرکچر پر حملوں میں اضافہ عالمی تیل منڈی اور شہری توانائی فراہمی کے لیے بھی خطرات پیدا کرتا ہے۔ زیلنسکی کا تازہ بیان پالیسی ارادے کی وضاحت کرتا ہے، لیکن آئندہ حملوں کے مقام، وقت اور پیمانے کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ جنگی دعووں کی طرح دونوں جانب کے آپریشنل بیانات کی آزادانہ تصدیق اکثر محدود رہتی ہے۔