جنیوا: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق کاروباری سرگرمیوں میں شامل کمپنیوں کے ڈیٹا بیس کی تازہ کاری جاری کرتے ہوئے 11 ممالک کی 214 کمپنیوں کو فہرست میں شامل کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ اپ ڈیٹ کے بعد 61 نئی کمپنیاں شامل کی گئیں جبکہ پانچ کمپنیوں کو فہرست سے نکالا گیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ یہ ڈیٹا بیس کمپنیوں کو ان کی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتا ہے۔ ان کے مطابق کاروباری اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مناسب جانچ پڑتال کریں تاکہ ان کی سرگرمیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا زیادتیوں سے منسلک نہ ہوں۔ فہرست میں شامل زیادہ تر کمپنیاں اسرائیل میں قائم ہیں، جبکہ دیگر اداروں کا تعلق کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، پرتگال، اسپین، برطانیہ اور امریکا سے بتایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ڈیٹا بیس میں تعمیرات، نگرانی، انہدام اور زرعی زمین کی تباہی سمیت ان سرگرمیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے جو مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیوں سے منسلک ہوں۔ یہ فہرست پہلی مرتبہ 2020 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ایک قرارداد کے بعد تیار کی گئی تھی۔ موجودہ فہرست مکمل یا حتمی نہیں، کیونکہ دفتر صرف ان کمپنیوں کا جائزہ لیتا ہے جن کے بارے میں مقررہ مدت میں معلومات یا درخواستیں موصول ہوئی ہوں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر 596 کمپنیوں کے بارے میں معلومات موصول ہوئیں اور اب تک 381 کا جائزہ مکمل کیا گیا ہے۔ اگرچہ ڈیٹا بیس کو سالانہ اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بتائی گئی تھی، اس سے پہلے اس میں صرف 2023 اور 2025 میں ترامیم کی گئی تھیں۔

اسرائیل نے اس ڈیٹا بیس کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی نوعیت کا طریقہ کار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ذریعے کاروباری اداروں کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا موقف ہے کہ فہرست کا مقصد کاروباری سرگرمیوں اور انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے درمیان تعلق کو واضح کرنا ہے۔ مغربی کنارہ 1967 سے اسرائیلی قبضے میں ہے اور بین الاقوامی اداروں کی اکثریت وہاں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون سے متصادم قرار دیتی ہے، جبکہ اسرائیل اس قانونی تشریح کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کرتا ہے۔