جنیوا: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ال نینو عالمی صحت کے لیے ایک نمایاں خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس موسمیاتی مظہر کے ریکارڈ شدت تک پہنچنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق شدید بارش، سیلاب، خشک سالی اور بلند درجہ حرارت مختلف خطوں میں بیماریوں، غذائی عدم تحفظ اور صحت کے نظام پر دباؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق ال نینو بحرالکاہل کی سطح کے پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے وابستہ قدرتی موسمیاتی عمل ہے۔ اس کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن عمومی طور پر بلند درجہ حرارت، شدید خشک سالی اور بعض علاقوں میں غیر معمولی بارش و سیلاب سے اس کا تعلق دیکھا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ شدید بارش اور کھڑا پانی ہیضے اور بیماری پھیلانے والے کیڑوں، خصوصاً مچھروں، کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملیریا، چکن گنیا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے کیس بڑھنے کا خطرہ رہتا ہے۔ خشک سالی اور گرمی دوسری جانب پانی، خوراک اور بنیادی صحت خدمات تک رسائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی رسک ریڈکشن، ہیومینیٹیرین آپریشنز اور کلائمیٹ چینج یونٹ کی سربراہ ٹریسا زکریا نے کہا کہ سب سے شدید اثرات ان مقامات پر سامنے آ سکتے ہیں جہاں موسمیاتی جھٹکے پہلے سے کمزور صحت نظام، محدود طبی رسائی، غذائی عدم تحفظ، نقل مکانی یا انسانی بحران کے ساتھ مل جائیں۔ ادارے نے حکومتوں پر زور دیا کہ خطرات بحران کی شکل اختیار کرنے سے پہلے تیاری اور حفاظتی اقدامات تیز کیے جائیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم نے ستمبر کے اوائل میں پیش گوئی کی تھی کہ موجودہ ال نینو تقریباً چار دہائیوں کے قابل تقابل ریکارڈ میں سب سے طاقتور بن سکتا ہے اور اس کے عالمی موسمی اثرات 2027 تک جاری رہ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ہر ال نینو کا علاقائی اثر ایک جیسا نہیں ہوتا، اس لیے مخصوص ملک یا شہر کے لیے بارش، گرمی یا بیماری کی شدت کا تعین مقامی پیش گوئیوں اور صحت نگرانی سے کرنا ضروری ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق ال نینو خود انسانی ساختہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا نہیں ہوتا، لیکن پہلے سے گرم ہوتی دنیا میں اس کے دوران درجہ حرارت اور موسمی انتہاؤں کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہی امتزاج موجودہ دور کو خاص طور پر تشویش ناک بناتا ہے، کیونکہ کئی خطے پہلے ہی ریکارڈ گرمی اور موسمیاتی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی تنبیہ کسی مخصوص وبا کی پیش گوئی نہیں بلکہ صحت کے نظاموں کے لیے خطرے کی پیشگی نشاندہی ہے۔ ادارے کا زور نگرانی، بیماریوں سے بچاؤ، صاف پانی، مچھر کنٹرول، ہنگامی طبی تیاری اور کمزور آبادیوں تک بروقت خدمات پہنچانے پر ہے تاکہ موسمیاتی جھٹکوں کو بڑے صحت بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

