اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان اور چائنا انٹرنیشنل سینٹر فار اکنامک اینڈ ٹیکنیکل ایکسچینجز (سی آئی سی ای ٹی ای) نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی اور پائیدار ترقی کے لیے جاری شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یو این ڈی پی کے مطابق سی آئی سی ای ٹی ای کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی شوئین کے پاکستان کے اعلیٰ سطحی دورے کے دوران دونوں اداروں نے موجودہ پروگراموں کی پیش رفت، حاصل شدہ تجربات اور آئندہ تعاون کی ترجیحات کا جائزہ لیا۔
ملاقاتوں میں سی آئی سی ای ٹی ای، پاکستان میں چینی سفارت خانے، وفاقی و بلوچستان حکومت، یو این ڈی پی اور ان مقامی آبادیوں کے نمائندے شریک ہوئے جو چین کی مالی معاونت سے چلنے والے اقدامات سے مستفید ہوئے ہیں۔ یو این ڈی پی کا کہنا ہے کہ کمیونٹی نمائندوں کے تجربات کو بھی آئندہ پروگرامنگ میں شامل کیا گیا تاکہ بحالی کے منصوبوں کی عملی افادیت اور مقامی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
یو این ڈی پی کے مطابق چین کی معاونت سے بلوچستان میں سیلاب کے بعد روزگار اور معاشی بحالی کے پہلے مرحلے سے ایک لاکھ 62 ہزار سے زیادہ افراد مستفید ہوئے۔ اب نیا مرحلہ اسی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اسے یو این ڈی پی کے وسیع تر فلیگ شپ فلڈ ریکوری پروگرام سے جوڑا گیا ہے۔ اس کا مقصد متاثرہ آبادیوں کے لیے صرف فوری مدد تک محدود رہنے کے بجائے روزگار، مقامی معیشت اور زیادہ پائیدار بحالی کی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔
ادارے نے یہ واضح کیا ہے کہ نئی سرگرمیاں پہلے سے قائم شراکت داری، فیلڈ تجربات اور مختلف سرمایہ کاری ذرائع کو یکجا کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ بلوچستان میں 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد کئی اضلاع میں گھروں، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور مقامی معیشت کو طویل مدتی نقصان پہنچا تھا، اس لیے بحالی کے متعدد پروگرام فوری امداد سے آگے بڑھ کر معاشی استحکام اور موسمیاتی لچک پر توجہ دے رہے ہیں۔
یو این ڈی پی کی جاری اطلاع میں نئے مرحلے کی مکمل مالی لاگت یا تمام جغرافیائی اہداف کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ تاہم ادارے نے اس تعاون کو پاکستان میں آفات کے بعد بحالی، مقامی ترقی اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں کمیونٹیز کی صلاحیت بہتر بنانے کے ایک وسیع تر فریم ورک کا حصہ قرار دیا ہے۔

