اسلام آباد: اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف سے منسوب نئی تحقیق نے پاکستان میں بچوں کے لیے آن لائن جنسی استحصال، گرومنگ اور بلیک میلنگ کے خطرات پر تشویش ناک اعداد و شمار سامنے رکھے ہیں۔ اے ایف پی کی ایک رپورٹ، جسے ایکسپریس ٹریبیون نے شائع کیا، کے مطابق ایک سال کے دوران پاکستان میں اندازاً 15 لاکھ بچوں نے کسی نہ کسی شکل میں آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کیا۔
رپورٹ کے مطابق زیرِمطالعہ متاثرہ بچوں کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان تھیں اور تقریباً 85 فیصد واقعات میں مبینہ مرتکب شخص متاثرہ بچے کے لیے مکمل اجنبی نہیں تھا۔ یونیسف کے ماہر ڈینیئل کارڈیفیلٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ آن لائن گرومنگ اکثر دوستانہ گفتگو، گیمز، تحائف، رقم یا جذباتی تعلق کے وعدوں سے شروع ہو سکتی ہے اور وقت کے ساتھ اعتماد کا غلط فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان سے متعلق نتائج میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ 71 فیصد متاثرہ بچوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سروے میں شامل کسی بچے نے پولیس، ہیلپ لائن یا سماجی کارکن جیسے رسمی ذرائع کے ذریعے شکایت درج نہیں کرائی۔ خاموشی کی وجوہ میں سماجی بدنامی، شرمندگی اور خاندان یا معاشرے کے ممکنہ ردعمل کا خوف شامل بتایا گیا ہے۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم PAHCHAAN کی میہک نعیم کے مطابق رپورٹ ہونے والے واقعات میں تقریباً 44 فیصد مکمل طور پر آن لائن ہوئے، جبکہ اسنیپ چیٹ اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارم نمایاں ذرائع میں شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار سروے اور متعلقہ تحقیقی طریقہ کار پر مبنی تخمینے ہیں، اس لیے انہیں پورے ملک کے ہر واقعے کی براہِ راست گنتی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اے ایف پی کی رپورٹ میں یونیسف کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستان میں 12 سے 17 سال کے تقریباً 74 فیصد بچے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل رسائی بڑھنے کے ساتھ آن لائن تحفظ، والدین و اساتذہ کی آگاہی، پلیٹ فارم سیفٹی اور بچوں کے لیے قابلِ اعتماد شکایتی نظام کی ضرورت بھی زیادہ نمایاں ہو رہی ہے۔
پاکستان میں بچوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے جرائم سے متعلق قانونی دفعات موجود ہیں، لیکن ماہرین نے نفاذ اور رپورٹنگ کے نظام میں خلا کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ آن لائن گرومنگ اور جنسی استحصال کو صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ کا مسئلہ سمجھ کر ایسے راستے بنائے جائیں جہاں متاثرہ بچے خوف یا بدنامی کے بغیر مدد حاصل کر سکیں۔

