امریکی حکومت نے وفاقی خدمات تک شہریوں کی رسائی آسان بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی America.gov پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29 ستمبر کو واشنگٹن میں اس نظام کا افتتاح کیا اور اسے سرکاری خدمات کے ڈیجیٹل ڈھانچے کو یکجا کرنے کی کوشش قرار دیا۔
America.gov میں چیٹ بوٹ طرز کا انٹرفیس شامل ہے جس کے ذریعے صارفین عام زبان میں سوالات لکھ کر وفاقی خدمات سے متعلق رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں پلیٹ فارم کی صلاحیت محدود ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسے ایسے پیچیدہ کاموں تک توسیع دی جا سکتی ہے جن میں پاسپورٹ کی درخواست، صحت سے متعلق وفاقی سہولیات یا ریٹائرمنٹ بینیفٹس تک رسائی شامل ہو۔ ان مستقبل کی صلاحیتوں کا مکمل نفاذ ابھی ہونا باقی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پلیٹ فارم کی تیاری میں Airbnb کے شریک بانی جو گیبیا نے اہم کردار ادا کیا، جو امریکی انتظامیہ میں چیف ڈیزائن آفیسر کے نئے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے جس میں وفاقی اداروں کو اپنی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل خدمات America.gov کے ساتھ مربوط کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد مختلف سرکاری پورٹلز کے درمیان بکھری معلومات اور خدمات کو ایک مرکزی تجربے میں لانا بتایا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا سرکاری خدمات میں بڑھتا استعمال سہولت کے ساتھ نئے سوالات بھی پیدا کرتا ہے۔ شہریوں کی ذاتی معلومات، سرکاری ریکارڈ، شناختی دستاویزات اور بینیفٹس سے متعلق نظاموں میں اے آئی کے استعمال کے لیے سکیورٹی، ڈیٹا پرائیویسی، غلط جواب کی ذمہ داری اور انسانی نگرانی جیسے معاملات اہم ہوں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں حالیہ سائبر واقعات اور تیزی سے پھیلتی اے آئی ٹیکنالوجی نے ایسے نظاموں کی حفاظت پر بحث کو بڑھایا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے اس پلیٹ فارم کو سرکاری خدمات زیادہ تیز اور آسان بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم یہ نظام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وفاقی ادارے اپنے موجودہ ڈیٹا اور سروسز کو کس رفتار اور معیار کے ساتھ مربوط کرتے ہیں، حساس معلومات کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے اور چیٹ بوٹ کے جوابات کی درستگی کے لیے کیا نگرانی قائم کی جاتی ہے۔
America.gov کا اجرا امریکی وفاقی حکومت کی ڈیجیٹل حکمت عملی میں ایک نمایاں تبدیلی ہے، کیونکہ روایتی ویب پورٹل کے بجائے گفتگو پر مبنی اے آئی انٹرفیس کو شہریوں اور ریاستی خدمات کے درمیان مرکزی رابطہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آئندہ مرحلوں میں عملی استعمال، ادارہ جاتی انضمام اور ڈیٹا تحفظ کے قواعد اس منصوبے کی حقیقی وسعت کو واضح کریں گے۔
