واشنگٹن/بیجنگ: امریکا اور چین نے باہمی تجارت میں محدود نرمی کے ایک نئے اقدام کے تحت تقریباً 60 ارب ڈالر مالیت کی منتخب غیر حساس اشیا پر ٹیرف کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں ممالک نے تقریباً 30، 30 ارب ڈالر کی درآمدی فہرستیں تیار کی ہیں جن پر زیادہ سازگار ٹیرف علاج دیا جائے گا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی حالیہ ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

امریکی فہرست میں چین سے آنے والی گھریلو استعمال کی متعدد اشیا، کھلونے اور دوسرے غیر اسٹریٹجک سامان شامل ہیں، جبکہ چین کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات، خوراک، ذاتی نگہداشت کی اشیا اور بعض صنعتی یا سائنسی مصنوعات کے لیے رعایتوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ دونوں طرف کی فہرستوں میں حساس اسٹریٹجک شعبوں، مثلاً جدید سیمی کنڈکٹرز اور برقی گاڑیوں جیسے شعبوں کو بڑی حد تک شامل نہیں کیا گیا۔ اس لیے معاہدہ امریکا۔چین تجارتی اختلافات کے مکمل حل کے بجائے محدود دائرے کی رعایت ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فہرستوں میں شامل 90 فیصد سے زیادہ اشیا کو دونوں ملکوں کی عمومی ترین تجارتی شرحوں کے قریب لانے کا مقصد رکھا گیا ہے، جس سے مخصوص اضافی ٹیرف کا اثر کم ہو سکتا ہے۔ تاہم عملی اطلاق، مختلف مصنوعات کی مخصوص شرح اور کس تاریخ سے نئی سطحیں نافذ ہوں گی، یہ متعلقہ کسٹمز اور تجارتی نوٹیفکیشنز کے ذریعے واضح ہوگا۔ بعض تجارتی تجزیہ کاروں نے اسے کشیدگی میں جزوی کمی قرار دیا ہے، لیکن بڑی ساختی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔

امریکا اور چین دنیا کی دو بڑی معیشتیں ہیں اور ان کے درمیان ٹیرف میں معمولی تبدیلی بھی عالمی سپلائی چین، زرعی منڈی، صارفین کی قیمتوں اور صنعتی درآمدات پر اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ فہرستیں تقریباً 60 ارب ڈالر کی تجارت پر لاگو ہونے کی منصوبہ بندی رکھتی ہیں، جو دونوں ممالک کے مجموعی دوطرفہ تجارتی حجم کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس لیے فوری مجموعی معاشی اثر محدود رہنے کا امکان ہے، جبکہ مخصوص کمپنیوں اور مصنوعات پر اثر زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت تجارتی جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں ہے۔ دونوں حکومتوں کے درمیان ٹیکنالوجی، برآمدی پابندیوں، صنعتی پالیسی، سبسڈیز اور قومی سلامتی سے جڑی تجارت کے کئی معاملات بدستور زیر بحث ہیں۔ موجودہ اتفاق کا قابلِ تصدیق نکتہ یہ ہے کہ دونوں جانب منتخب غیر حساس اشیا کی فہرستیں تیار کی گئی ہیں اور ان پر کم ٹیرف کی سمت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ آئندہ مذاکرات اس محدود انتظام کے دائرے اور مدت کو مزید واضح کریں گے۔