امریکا اور چین نے باہمی تجارتی تنازع میں عارضی جنگ بندی کی مدت 10 جنوری تک بڑھا دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چینی نائب وزیر اعظم ہی لائفنگ کے ساتھ مذاکرات کے بعد توسیع کی تصدیق کی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب چینی صدر شی جن پنگ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔

تجارتی جنگ بندی اس کشیدگی کو عارضی طور پر محدود کرتی ہے جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کر چکے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ایک مرحلے پر باہمی ٹیرف کی شرحیں 100 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی تھیں۔ نئی توسیع سے مذاکراتی ٹیموں کو زراعت، غیر ٹیرف رکاوٹوں، ٹیکنالوجی اور دیگر تجارتی اختلافات پر مزید بات چیت کے لیے وقت ملے گا۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ دونوں حکومتوں سے زراعت اور غیر ٹیرف اقدامات کے بارے میں اعلانات متوقع ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چین 200 بوئنگ طیاروں کی خریداری سے متعلق ایک سابقہ وعدے پر پیش رفت کر رہا ہے، تاہم فوری طور پر کسی نئے آرڈر کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

شی جن پنگ کے دورے کا ایجنڈا صرف تجارت تک محدود نہیں۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات اور ممکنہ حادثات کو بڑے تنازع میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے رابطہ طریقہ کار، فوجی رابطوں اور دیگر سکیورٹی معاملات پر بھی گفتگو متوقع ہے۔ تائیوان بدستور دونوں ملکوں کے درمیان حساس مسئلہ ہے، جبکہ امریکی اسلحہ فروخت اور بیجنگ کے مؤقف پر اختلاف برقرار ہے۔

شی نے امریکا پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ چین اور امریکا کو حریف کے بجائے شراکت دار بننے کی کوشش کرنی چاہیے اور اختلافات کو قابل انتظام رکھنا چاہیے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے اس دورے کو تجارت، ٹیکنالوجی اور وسیع تر دوطرفہ تعلقات میں عملی پیش رفت کے موقع کے طور پر پیش کیا ہے۔

تجارتی جنگ بندی کی توسیع کسی مستقل جامع معاہدے کے برابر نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ کشیدگی کے کچھ اقدامات کو محدود مدت کے لیے روکا گیا ہے جبکہ بنیادی اختلافات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔ آئندہ ہفتوں میں ہونے والے اعلانات سے واضح ہوگا کہ محصولات، زرعی خریداری، ٹیکنالوجی اور دیگر معاملات میں دونوں حکومتیں کتنی عملی پیش رفت کر پاتی ہیں۔