نیروبی/واشنگٹن: ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے 25 ہزار سے زیادہ تارکین وطن کو ایسے تیسرے ممالک بھیجا جن سے ان افراد کا براہ راست قومی تعلق نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ انتظامات 35 ممالک کے ساتھ کیے گئے اور ان افراد پر توجہ مرکوز رہی جنہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے میں قانونی یا عملی رکاوٹیں موجود تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی انتظامیہ نے مختلف ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ایسے معاہدوں یا انتظامات پر کام کیا جن کے تحت بعض تارکین وطن کو تیسرے ملک منتقل کیا جا سکے۔ رپورٹ میں ان انتظامات کی شفافیت اور تفصیلات پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
یہ 25 ہزار سے زائد افراد کی تعداد تحقیقاتی رپورٹ کا نتیجہ ہے، اس لیے اسے امریکی حکومت کی جانب سے اسی شکل میں جاری کردہ سرکاری مجموعی عدد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ امیگریشن اور ملک بدری سے متعلق امریکی پالیسی قانونی چارہ جوئی، انسانی حقوق کے تقاضوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے باعث مسلسل بحث کا موضوع رہی ہے۔
تیسرے ملک میں ملک بدری کے معاملات میں یہ سوال اہم ہوتا ہے کہ وصول کنندہ ملک فرد کو کس قانونی حیثیت میں قبول کرتا ہے، وہاں تحفظ اور قانونی عمل کی کیا ضمانتیں موجود ہیں، اور آیا متاثرہ شخص کو فیصلے کے خلاف مؤثر اپیل کا موقع ملا۔ مختلف مقدمات میں حالات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے بعد توجہ ان معاہدوں کی قانونی بنیاد، نگرانی اور انسانی اثرات پر مرکوز ہونے کا امکان ہے۔ حتمی تصویر کے لیے امریکی حکام، وصول کنندہ ممالک اور عدالتوں سے سامنے آنے والی دستاویزات اور اعداد و شمار اہم رہیں گے۔
