عراق میں امریکی افواج کی طویل فوجی موجودگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں امریکی اہلکار 30 ستمبر تک ملک میں اپنے آخری اڈوں سے انخلا مکمل کرنے والے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ انخلا 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان طے پانے والے انتظام کے تحت ہو رہا ہے، جس پر موجودہ امریکی انتظامیہ عمل کر رہی ہے۔

امریکا نے 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا اور 2011 کے آخر میں بڑی فوجی موجودگی ختم کی، تاہم اسلامک اسٹیٹ کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد امریکی اور اتحادی افواج 2014 میں دوبارہ عراق واپس آئیں اور عراقی فورسز کی تربیت، انٹیلی جنس، فضائی مدد اور داعش کے خلاف کارروائیوں میں معاونت کرتی رہیں۔ اب آخری اڈوں سے انخلا اس مشن کے رسمی اختتام کا ایک اہم مرحلہ ہے۔

روئٹرز کے مطابق عراقی سکیورٹی حلقوں میں اس انخلا کے اثرات پر مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے سے ایران کے حامی مسلح گروہوں کا اثر بڑھ سکتا ہے، جبکہ بعض عراقی رہنما اسے قومی خودمختاری کی بحالی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایران سے منسلک عراقی گروہوں کے ایک کمانڈر نے انخلا کو اپنی تحریک کی کامیابی قرار دیا؛ یہ اس گروہ کا سیاسی مؤقف ہے، آزادانہ حقیقت نہیں۔

دوسری جانب کچھ عراقی اور کرد سکیورٹی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس، لاجسٹک مدد اور ڈرون صلاحیت میں کمی سے اسلامک اسٹیٹ کے باقی ماندہ نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق عراقی حکام نے ایک مشتبہ داعش سیل کے بارے میں بھی اطلاع دی جو انخلا کے وقت حملوں کی تیاری کر رہا تھا۔ ان خدشات کے باوجود عراق کی حکومت نے اپنی سکیورٹی فورسز کے کردار کو مرکزی حیثیت دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔

عراق گزشتہ برسوں میں امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی سیاسی اور سکیورٹی روابط رکھنے والا ایک منفرد ملک رہا ہے۔ 2020 میں بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اس کے بعد امریکی اڈوں پر ایران سے منسلک گروہوں کے حملوں نے اس توازن کو بارہا دباؤ میں ڈالا۔ موجودہ انخلا اسی پیچیدہ علاقائی ماحول میں ہو رہا ہے۔

انخلا کے بعد عراق میں امریکی سفارتی، اقتصادی یا محدود سکیورٹی تعاون کی نوعیت الگ مسئلہ رہے گی؛ آخری فوجی اڈوں سے نکلنا تمام دوطرفہ تعلقات کے خاتمے کے مترادف نہیں۔ آنے والے مہینوں میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ عراقی فورسز داعش کے باقی خطرات، مسلح گروہوں کے اثر اور سرحدی سلامتی کو کس حد تک خود سنبھالتی ہیں اور بغداد علاقائی طاقتوں کے درمیان اپنا توازن کیسے برقرار رکھتا ہے۔