امریکا گرین لینڈ میں دو فوجی تنصیبات قائم یا دوبارہ فعال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جن میں جنوبی گرین لینڈ کے نارسارسواک میں سرد جنگ کے دور کا ایک سابق امریکی اڈہ اور مشرقی ساحل کے میسٹرسویگ میں ایک نئی سہولت شامل ہے۔ رائٹرز نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ اقدامات امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان سکیورٹی معاہدے کا حصہ ہیں جس پر 22 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دستخط کیے جانے تھے۔

ذرائع کے مطابق نارسارسواک وہ مقام ہے جہاں امریکا نے 1950 کی دہائی میں بلیو ویسٹ ون نامی فوجی اڈہ بند کیا تھا۔ آج اس علاقے کی آبادی چند درجن افراد تک محدود رہ گئی ہے۔ دوسرا مقام میسٹرسویگ ہے، جو اس وقت ڈنمارک کی خصوصی فورس سریئس ڈاگ سلیڈ پیٹرول کے زیر استعمال ایک فوجی چوکی ہے۔ معاہدے کی مکمل شرائط عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی تھیں، اس لیے اڈوں کے حجم، فوجی نفری اور تعمیراتی ٹائم لائن سے متعلق تفصیلات ابھی واضح نہیں۔

گرین لینڈ جغرافیائی اعتبار سے آرکٹک میں انتہائی اہم مقام رکھتا ہے اور امریکا طویل عرصے سے وہاں فوجی موجودگی رکھتا آیا ہے۔ آرکٹک میں روس اور چین کی بڑھتی سرگرمیوں، سمندری راستوں اور معدنی وسائل کی اہمیت کے باعث نیٹو ممالک نے حالیہ برسوں میں خطے کی سلامتی پر زیادہ توجہ دی ہے۔ ڈنمارک کا مؤقف ہے کہ نئے انتظام میں آرکٹک سکیورٹی نیٹو کی مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھی جائے گی، نہ کہ صرف واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے دوطرفہ معاملے کے طور پر۔

گرین لینڈ ڈنمارک کی بادشاہت کے اندر ایک خودمختار علاقہ ہے اور اس کی اپنی حکومت ہے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی سکیورٹی انتظام میں گرین لینڈ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مقامی لوگوں کے حق خود ارادیت کا احترام ضروری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کے بارے میں وسیع اختیار کے دعوے کیے ہیں، تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ نے ان دعوؤں کی وہی تشریح اختیار نہیں کی اور حتمی متن سامنے نہ آنے تک اس کے قانونی دائرے کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ میں نئے اڈوں کے منصوبے کو ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے؛ اس لیے ان تفصیلات کو باضابطہ معاہدے اور سرکاری نفاذ کے بعد ہی حتمی سمجھا جا سکے گا۔ فی الحال سب سے واضح بات یہ ہے کہ امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ آرکٹک میں دفاعی تعاون کو وسعت دینے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور نارسارسواک و میسٹرسویگ اس تعاون کے ممکنہ اہم مراکز بن سکتے ہیں۔