امریکا میں یکم اکتوبر سے امیگریشن اور ویزا جانچ کے مزید سخت اقدامات نافذ ہو گئے ہیں، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ یہ تعداد مختلف ویزا زمروں اور متعدد وجوہات سے کی گئی منسوخیوں کا مجموعہ ہے، نہ کہ کسی ایک دن یا ایک مخصوص ویزا پروگرام کی کارروائی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ کے مطابق ویزا منسوخی کی کارروائی مسلسل جانچ کے عمل کا حصہ ہے۔ امریکی حکام نے ویزا شرائط کی خلاف ورزی، بعض فوجداری معاملات، فراڈ، تشدد کی حمایت سے متعلق الزامات اور قومی سلامتی کے خدشات کو ان وجوہات میں شمار کیا ہے جن کی بنیاد پر ویزا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ ہر کیس کے حقائق اور قانونی حیثیت الگ ہوتی ہے، اس لیے مجموعی تعداد کو تمام متاثرہ افراد کے خلاف یکساں نوعیت کے الزام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 2,300 ویزوں کی منسوخی کو نام نہاد برتھ ٹورزم سے جوڑا گیا ہے، جس سے مراد ایسے سفر ہیں جن کے بارے میں حکام کا مؤقف ہو کہ بنیادی مقصد امریکا میں بچے کی پیدائش کے ذریعے شہریت حاصل کرنا تھا۔ محکمہ خارجہ نے بعض ویزا زمروں کے درخواست گزاروں کے لیے آن لائن موجودگی اور سوشل میڈیا سمیت اضافی جانچ کے دائرے میں بھی توسیع کی ہے۔

نئے اقدامات ایسے وقت نافذ ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی اور غیر قانونی امیگریشن دونوں سے متعلق قواعد، نفاذ اور جانچ کے طریقہ کار کو سخت کر رہی ہے۔ ویزا کی منسوخی اور امریکا سے ملک بدری دو الگ قانونی امور ہیں: ویزا بیرون ملک سے داخلے کی اجازت طلب کرنے کی دستاویز ہوتا ہے، جبکہ امریکا کے اندر کسی شخص کی امیگریشن حیثیت اور ممکنہ اخراج کے لیے الگ قانونی عمل لاگو ہو سکتا ہے۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزا رکھنے والے افراد جاری جانچ کے تابع رہ سکتے ہیں اور نئی معلومات سامنے آنے پر ان کی اہلیت دوبارہ دیکھی جا سکتی ہے۔ ناقدین ایسے وسیع جانچ کے نظام میں شفافیت، مناسب قانونی عمل اور اظہار رائے سے متعلق خدشات اٹھاتے ہیں، جبکہ انتظامیہ اسے قومی سلامتی اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کا حصہ قرار دیتی ہے۔

یکم اکتوبر سے نافذ تبدیلیوں کا عملی اثر مختلف ویزا زمروں اور درخواست گزاروں پر مختلف ہو سکتا ہے۔ درخواست دہندگان کے لیے متعلقہ امریکی سفارت خانے، قونصل خانے اور محکمہ خارجہ کی تازہ سرکاری ہدایات اہم رہیں گی، کیونکہ قواعد اور جانچ کی شرائط ویزا کی نوعیت کے مطابق بدل سکتی ہیں۔