نیویارک/دبئی: امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بالواسطہ سفارتی رابطہ ہوا ہے، تاہم دونوں جانب سے فوری طور پر کسی بنیادی پالیسی تبدیلی یا نئی رعایت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیویارک میں ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا۔

رائٹرز نے اس رابطے کو جولائی میں عبوری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا رابطہ قرار دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وٹکوف اور کشنر کی ایرانی ثالثوں کے ساتھ ملاقات ’’بہت نتیجہ خیز‘‘ رہی اور ان کے خیال میں معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے رفتار پیدا ہوئی ہے۔ یہ ٹرمپ کا اپنا اندازہ ہے؛ مذاکرات کے نتیجے میں ابھی کسی باضابطہ سمجھوتے یا مشترکہ اعلامیے کا اعلان نہیں ہوا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے قطر کے ثالث کے ذریعے امریکا سے رابطہ کیا اور اپنی شرائط پہنچائیں، جن میں مختلف محاذوں پر جنگ ختم کرنے اور ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ شامل تھا۔ بعض ایرانی سرکاری ذرائع نے ابتدا میں عباس عراقچی اور وٹکوف کی براہ راست ملاقات کی اطلاع دی تھی، لیکن ایرانی حکام نے رائٹرز کو بعد میں واضح کیا کہ رابطہ بالمشافہ نہیں ہوا۔ عراقچی نے قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے الگ ملاقات کی، جو اس سفارتی عمل کے اہم ثالثوں میں شامل رہے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جولائی میں اس وقت منقطع ہوئے تھے جب ایک عبوری جنگ بندی چند ہفتوں کے اندر ٹوٹ گئی اور خطے میں دوبارہ لڑائی شروع ہوئی۔ فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات میں ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور وسیع تر علاقائی سکیورٹی کے معاملات شامل ہیں۔ جون میں ہونے والے ایک عبوری سمجھوتے میں مالی پابندیاں نرم کرنے اور منجمد اثاثوں تک رسائی کے بدلے ایرانی جوہری پروگرام پر مزید بات چیت کا خاکہ موجود تھا، مگر وہ بندوبست برقرار نہ رہ سکا۔

نئے رابطے کے باوجود ایرانی اور امریکی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نے اپنے بنیادی مؤقف میں کسی تبدیلی کی تصدیق نہیں کی۔ ایران میں بعض سخت گیر حلقوں نے امریکی نمائندوں کے ساتھ رابطے کی مخالفت بھی کی ہے، جبکہ واشنگٹن جوہری پروگرام پر پابندیوں اور علاقائی سلامتی سے متعلق اپنے مطالبات برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ طویل وقفے کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سفارتی چینل دوبارہ فعال ہوا ہے، لیکن اسے کسی حتمی امن معاہدے یا جنگ کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ آئندہ مرحلے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا فریقین بالواسطہ رابطے کو باقاعدہ مذاکرات میں تبدیل کرتے ہیں اور اپنے اختلافی نکات پر قابلِ قبول شرائط تک پہنچ پاتے ہیں۔