واشنگٹن: امریکا اور روس کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق جاری رابطوں میں روسی توانائی کمپنی لوک آئل کے عالمی اثاثوں پر مشتمل ایک ممکنہ اربوں ڈالر کے کاروباری معاہدے پر بھی بات چیت ہونے کی اطلاع ہے۔ رائٹرز نے نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ یہ مجوزہ ڈیل امریکی حکومت اور کریملن دونوں کی منظوری سے مشروط ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق ممکنہ معاہدے میں لوک آئل کے مختلف ممالک میں موجود تیل کے ذخائر، ریفائنریز اور پیٹرول اسٹیشنوں سمیت متعدد اثاثے شامل ہو سکتے ہیں۔ بات چیت میں امریکی سرمایہ کار ٹوڈ بوہلی، مشرق وسطیٰ کے بعض کاروباری گروپ اور امریکی حکومت سے منسلک ایک ادارہ شامل ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ تفصیلات نامعلوم ذرائع پر مبنی رپورٹنگ کا حصہ ہیں اور متعلقہ فریقوں نے ہر پہلو کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 5 ستمبر کو کریملن میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ ملاقات کے دوران اس ممکنہ معاہدے کا ذکر کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسے امریکا اور روس کے درمیان تجارتی روابط کی گنجائش کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔

رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خزانہ اور لوک آئل نے معمول کے کاروباری اوقات سے باہر تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔ اس لیے مجوزہ ڈیل کو طے شدہ یا منظور شدہ معاہدہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کی تکمیل کے لیے سیاسی، قانونی، مالی اور ممکنہ پابندیوں سے متعلق متعدد منظوریوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یوکرین جنگ کے تناظر میں روسی توانائی شعبہ مغربی پابندیوں اور تجارتی پابندیوں کا اہم ہدف رہا ہے، اس لیے کسی بڑے روسی توانائی اثاثے سے متعلق بین الاقوامی لین دین سیاسی اور قانونی حساسیت رکھتا ہے۔ موجودہ اطلاع بنیادی طور پر اس بات تک محدود ہے کہ ایک ممکنہ ڈیل مذاکرات میں زیر بحث آئی ہے؛ اس کے حتمی ڈھانچے، قیمت، شرائط یا منظوری کے بارے میں کوئی حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔